آزاد کشمیر الیکشن میں ووٹ پر ڈاکہ مارا گیا،آزاد کشمیر میں جو ہو رہا ہے کیا ہم اسے جمہوریت کا نام دے سکتے ہیں،میرپورکے عوام نے پیپلز پارٹی کو اکثریت دلوائی، لیکن لگ رہا ہے ریاست کا ہر فیصلہ ن لیگ کو ترجیح دے رہا ہے
الیکشن میں چھینی سیٹیں واپس لے کر رہوں گا‘جھکیں گے نہ پیچھے ہٹیں گے ،آزاد کشمیر میں عوامی مینڈیٹ کا ہر قیمت پر دفاع کریں گے‘تاریخ گواہ ہے ظلم، جبر اور ناانصافی کو کبھی جمہوریت کا نام نہیں دیا جا سکتا
آزادکشمیر کے ساتھ کیا کر رہے ہیں، کیا چاہتے ہیں پونچھ آزاد کشمیر کا نہیں مقبوضہ کشمیر کا لگے گا، کشمیر کاز کو بچانے کیلئے پیپلزپارٹی کی مفاہمتی پالیسی تسلیم کرنا پڑے گی‘اب کسی کو ووٹ چوری کرنے نہیں دینگے: ورکرز کنونشن سے خطاب
مظفر آباد(آئی این پی )چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے آزاد کشمیر کے الیکشن میں میرپور اور کوٹلی کے ووٹ پر ڈاکہ مارا گیا، ریاست کو فیصلہ کرنا ہیکہ ہمارے لیے قومی مفاد زیادہ اہم ہے یا ن لیگ کا مفاد زیادہ اہم ہے۔مظفرآباد میں پیپلز پارٹی کے ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا آزاد کشمیر میں جو ہو رہا ہے کیا ہم اسے جمہوریت کا نام دے سکتے ہیں، میرپورکے عوام کا شکر گزار ہوں انہوں نے اپنے ووٹ سے پیپلز پارٹی کو اکثریت دلوائی، لیکن لگ رہا ہے ریاست کا ہر فیصلہ ن لیگ کو ترجیح دے رہا ہے، اس کا نقصان کشمیر، پاکستان اور اس کے عوام کا ہو رہا ہے۔ان کا کہنا تھا ریاست کو فیصلہ کرنا ہے کہ ان کے لیے قومی مفاد زیادہ اہم ہے یا ن لیگ کا مفاد، ہم قومی مفاد میں ریاست پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں، ن لیگ کے مفاد میں نہیں، آنکھیں کھولیں، ن لیگ کے مفاد کے نام پر پاکستان کا کیا حال ہوا، کشمیر کے ساتھ کیا کر رہے ہیں، یہ آزاد کشمیر ہے، اسے کبھی بھی مقبوضہ کشمیر نہیں بننے دیں گے، کیا چاہتے ہیں کہ پونچھ آزاد کشمیر کا نہیں مقبوضہ کشمیر کا لگے۔انہوں نے کہا کہ انٹرنیٹ بند کرنے سے یہ آزاد کشمیر نہیں مقبوضہ کشمیر لگے گا، کیا آپ سمجھتے ہیں کہ تمام سیاسی پارٹیاں بیوقوف ہیں، کیا کشمیر کے عوام نہیں جانتے کہ ان کے ساتھ آپ کیا کر رہے ہیں، یہ دھاندلی کی کہانی آج سے شروع نہیں ہوئی، قومی مفاد کو دھکیل کر ن لیگ کے مفاد کو ترجیح دینا آج سے شروع نہیں ہوا، ہمیں چاہیے کہ صاف و شفاف الیکشن کرائیں، کشمیر کاز کو بچانے کے لیے پیپلزپارٹی کی مفاہمتی پالیسی تسلیم کرنا پڑیگی۔چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا ہم اپنے ہی ساتھیوں کی جانیں ضائع ہوتے نہیں دیکھ سکتے، آپ نے پیپلز پارٹی کے کارکن کو مارا لیکن اس کے باوجود ان کی تمام کوششیں ناکام ہوئیں، میں انہیں نہیں چھوڑوں گا، آپ کو حق دلاکر رہوں گا۔بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا سکیورٹی کے باوجود 30 پولنگ اسٹیشنز پر حملے کیسے ہوئے؟ ایک دو حلقوں پر ہو جائے تو مان لیں، پورے 30 پولنگ اسٹیشنز پر حملے کیسے مان لیں، آپ نے مرحلہ وار الیکشن دھاندلی کے لیے کرائے، ان لوگوں نے وہی کام کیا جو انہوں نے پچھلے الیکشن میں کیا، اب کسی کو اپنے حق پر ڈالنے نہیں دیں گے۔انہوں نے کہا جھکیں گے نہ پیچھے ہٹیں گے ،آزاد کشمیر میں عوامی مینڈیٹ کا ہر قیمت پر دفاع کریں گے۔ تاریخ گواہ ہے ظلم، جبر اور ناانصافی کو کبھی جمہوریت کا نام نہیں دیا جا سکتا۔ حقیقی جمہوریت کی بنیاد امن، انصاف اور عوامی حقوق ہیں، اس لیے جمہوریت کے نام پر ناانصافی کو قبول نہیں کیا جا سکتا۔