آزاد کشمیر انتخابات میں حصہ لیا جائے:اسیر رہنما پی ٹی آئی، آزاد کشمیر الیکشن سے فرار سیاسی کمزوری:طارق فضل

آزاد کشمیر الیکشن تحریک انصاف کا بائیکاٹ
 آزادکشمیر کے موجودہ حالات میں انتخابی عمل کا حصہ نہیں بنیں گے: پی ٹی آ ئی ،تحریک انصاف پیچھے ہٹی نہ دبی ،زیادہ مضبوط :سلمان راجہ،پارٹی کو حمایت یافتہ تمام امیدواروں کے نام شائع کرنے چاہئیں :اسیر رہنمائوں کا قیادت کو خط 
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)تحریک انصاف نے آزاد کشمیر کے عام انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کردیا۔ایک بیان میں تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ آزادکشمیر کے موجودہ حالات میں انتخابی عمل کا حصہ نہیں بنیں گے،عوام کیسا تھ رہیں گے۔آزاد کشمیر میں عام انتخابات27 جولائی کو شیڈول کے مطابق ہوں گے۔ترجمان الیکشن کمیشن آزاد جموں و کشمیر نے ایک بیان میں کہا تھا کہ اسمبلی کی آئینی مدت و قانونی تقاضوں کے باعث 5 جون کو انتخابی شیڈول جاری کیا گیا، آزاد کشمیر میں عام انتخابات کے التوا سے متعلق قیاس آرائیاں بیبنیاد ہیں، انتخابی شیڈول آئینی و قانونی تقاضوں کے مطابق جاری کیا، بدنیتی کا تاثر بے بنیاد ہے، الیکشن بروقت کروانا آئینی ذمہ داری ہے، انتخابی شیڈول کسی سیاسی مقصد کے تحت جاری نہیں کیا۔ترجمان الیکشن کمیشن کے مطابق آزاد کشمیر میں شفاف، آزادانہ اور غیرجانبدارانہ انتخابات کا انعقاد یقینی بنایا جائے گا۔تحریک انصاف کے جنرل سیکرٹری سلمان اکرم راجہ نے کہا ہے کہ سانحہ کاہنہ ایک قومی المیہ ہے اور وہ پارٹی رہنمائوں کے ہمراہ جاں بحق ہونے والے بچوں کے گھروں میں گئے اور اظہار تعزیت کیا،سلمان اکرم راجہ نے بانی پی ٹی آئی عمران اور بشریٰ بی بی کے خلاف مقدمات کو سیاسی انتقام قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں ناجائز مقدمات میں قید رکھا گیا ہے،جو لوگ سمجھتے ہیں کہ تحریک انصاف دب گئی ہے یا پیچھے ہٹ گئی ہے، وہ غلط فہمی کا شکار ہیں، انہوں نے کہا کہ پارٹی پہلے سے زیادہ مضبوط ہے، اپنے مئوقف پر ڈٹ کر کھڑی ہے، پیچھے نہیں ہٹے گی اور انہیں یقین ہے کہ بالآخر کامیابی ان کا مقدر ہوگی،انہوں نے کہا کہ موجودہ نظام جھوٹ اور بربریت پر مبنی ہے،حکومت پانچ بجٹ پیش کرنے کے باوجود عوام کی زندگی میں بہتری لانے میں ناکام رہی ہے،معاشی ابتری ملک کے ہر حلقے میں نظر آ رہی ہے ،انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر موجودہ طرز حکمرانی جاری رہی تو آ زاد کشمیر جیسی صورتحال پورے ملک میں پیدا ہو سکتی ہے۔تحریک انصاف کے اسیر رہنمائوں نے الیکشن آزاد جموں و کشمیر کے حوالے سے پارٹی چیئرمین اور سیکرٹری جنرل کو خط لکھ دیا۔کوٹ لکھپت جیل میں قید پی ٹی آئی رہنمائوں یاسمین راشد، شاہ محمود قریشی اور دیگر نے چیئرمین پی ٹی آئی اور سیکرٹری جنرل کو خط کے ذریعے ریاستی انتخابات میں حصہ لینے کی درخواست کرتے ہوئیکہا ہے ہم نے آزاد جموں و کشمیر انتخابات پر مشاورت کی اور اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ آزاد جموں و کشمیر سپریم کورٹ کے فیصلے کے باوجود بطور جماعت الیکشن میں حصہ لیں ،ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیدواروں کو انتخابی عمل میں حصہ لینا چاہیے، پارٹی کو ان تمام امیدواروں کے نام شائع کرنے چاہئیں جو ان کے حمایت یافتہ ہوں گے۔پی ٹی آئی ذرائع نے بتایا کہ اسیر قائدین نے الیکشن میں حصہ لینے کا پیغام اور خط وکیل کے ذریعے پارٹی قیادت تک پہنچایا ہے۔ وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چودھری نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کا آزاد کشمیر الیکشن سے فرار کا فیصلہ ان کی سیاسی کمزوری ہے، پی ٹی آئی عوامی حمایت نہ ملنے کے خوف کی وجہ سے الیکشن سے راہ فرار اختیار کررہی ہے۔ جمعرات کو سماجی رابطہ کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ جو جماعت خود کو عوام کی سب سے بڑی نمائندہ قرار دیتی رہی، آج وہی عوام کے فیصلے سے بچنے کے لیے نت نئے جواز تراش رہی ہے، اگر واقعی عوام کے حقوق اور جمہوریت پر یقین ہوتا تو میدان نہ چھوڑتے، ہر انتخاب سے قبل ماحول کو متنازع بنانا اور اداروں پر الزامات لگانا ان کا وتیرا بن چکا ہے ، سیاسی جماعتیں عوام کے فیصلوں سے بھاگتی نہیں بلکہ ان کا سامنا کرتی ہیں۔ ڈاکٹر طارق فضل چودھری نے کہا کہ انتخابات سے فرار کسی اصول کی علامت نہیں بلکہ عوامی اعتماد سے محرومی کا اعتراف ہوتا ہے ،عوام بخوبی جانتے ہیں کہ عوامی مینڈیٹ کا راستہ بائیکاٹ اور سیاسی ڈراموں سے نہیں صرف بیلٹ بکس سے گزرتا ہے۔