وزیراعظم آزاد کشمیر کا صدر آزاد کشمیر پر حملے کا نوٹس، ن لیگی شرپسند عناصر نے ناقابلِ برداشت حرکت کی: فیصل ممتاز راٹھور

آزاد کشمیر الیکشن:بلاول کا دھاندلی کا الزام قائم مقام صدر چودھری لطیف اکبر پر حملہ،پی پی کارکن جاں بحق  دھاندلی 
 انتخابات کے دوسرے مرحلے میں بیلٹ بکس بھرنے اور ہمارے پولنگ ایجنٹس کو غیر قانونی طور پر پولنگ سٹیشنوں سے نکالنے کے حوالے سے متعدد تحریری شکایات جمع ،پیپلزپارٹی احتجاج کرنے اور دوبارہ انتخابات کا مطالبہ کرنے کا حق محفوظ رکھتی ہے
یاسر شاہ، احمد شاہ اور فواد شاہ نے پولنگ کے روز انتخابی عمل کے دوران قائم مقام صدر آزاد کشمیر اور پارٹی امیدوار چوہدری لطیف اکبر پر جسمانی حملہ کیا گیا، جو نہ صرف انتخابی عمل بلکہ ریاست کے آئینی وقار پر بھی حملہ ہے
(انٹرو ۱)
مظفر آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان پیپلز پارٹی نے آزاد کشمیر انتخابات کے دوسرے مرحلے میں بھی دھاندلی کا الزام عائد کر دیا۔چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ الیکشن کمیشن اب تک آزاد کشمیر انتخابات کے پہلے مرحلے میں ہماری شکایات پر کوئی کارروائی کرنے میں ناکام رہا ہے، اگر نوٹس لے لیا جاتا تو آج ہونے والے دوسرے مرحلے کے انتخابات کی ساکھ بحال ہوسکتی تھی۔ان کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی احتجاج کرنے اور دوبارہ انتخابات کا مطالبہ کرنے کا حق محفوظ رکھتی ہے۔بلاول بھٹو نے کہا کہ ہم آج کے انتخابات میں بیلٹ بکس بھرنے اور ہمارے پولنگ ایجنٹس کو غیر قانونی طور پر پولنگ سٹیشنوں سے نکالنے کے حوالے سے متعدد تحریری شکایات پہلے ہی جمع کرا چکے ہیں۔چیئرمین پی پی کا مزید کہنا تھا کہ امید ہے کہ الیکشن کمیشن فوری کارروائی کرے گا اور کم از کم دوسرے مرحلے کے انتخابات میں شفافیت اور انصاف کو یقینی بنائے گا۔ صدر ریاست آزاد جموں و کشمیر چوہدری لطیف اکبر پر حملے کے بعد ان کے انتخابی حلقہ ایل اے 31 میں پیپلز پارٹی کارکن مشتاق شاہ کو قاتلانہ حملے میں شہید کر دیا گیا۔پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ایل اے 31 میں پیپلز پارٹی کارکن مشتاق شاہ کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے شہید کارکن کے لواحقین سے اظہار رنج و غم کیا۔پیپلز پارٹی نے مختلف حلقوں میں مبینہ انتخابی بے ضابطگیوں پر الیکشن کمیشن سے فوری کارروائی اور ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کر دیا۔الیکشن کمیشن کو ارسال درخواستوں میں مبینہ دھاندلی، انتظامی غفلت اور ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا۔پیپلز پارٹی نے شکایت درج کروائی کہ حلقہ ایل اے 28 کے 71 پولنگ اسٹیشنوں پر عملہ نہ پہنچنے سے پولنگ شروع نہ ہو سکی، حلقے کی چار یونین کونسلوں میں پولنگ عملے کی عدم موجودگی سے ووٹرز مشکلات کا شکار ہیں جس پر پیپلز پارٹی نے متاثرہ پولنگ اسٹیشنوں پر پولنگ کے اوقات بڑھانے کا مطالبہ کر دیا۔حلقہ ایل اے 30 کے بناو لنگاہ پولنگ اسٹیشن پر بیلٹ باکس باہر منتقل کر کے مبینہ بیلٹ اسٹفنگ کی جا رہی ہے، پیپلز پارٹی نے مبینہ بیلٹ اسٹفنگ اور بیلٹ باکس کی منتقلی کی فوری تحقیقات کا مطالبہ کر دیا۔حلقہ ایل اے 31 میں رنگلہ کٹکیر روڈ بند ہونے سے 50 سے زائد گاڑیوں میں سوار ووٹرز پھنس گئے، پیپلز پارٹی نے سڑک فوری کھلوانے اور پولنگ کے اوقات میں توسیع کا مطالبہ کر دیا۔حلقہ ایل اے 32 کے تین پولنگ اسٹیشنوں پر پولنگ ایجنٹس کو اندر بیٹھنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ پیپلز پارٹی نے پولنگ اسٹیشن نمبر 24 پر مبینہ بیلٹ اسٹفنگ کی شکایت الیکشن کمیشن کو ارسال کرتے ہوئے کہا کہ حلقے میں ایک سرکاری ملازم مسلم لیگ (ن) کے پولنگ ایجنٹ کے طور پر تعینات ہے۔حلقہ ایل اے 34 میں پیپلز پارٹی کے پولنگ ایجنٹس کو مبینہ طور پر پولنگ اسٹیشنوں میں داخل ہونے سے روک دیا گیا، پولنگ ایجنٹ کے لیے مقامی رہائشی ہونا قانونی شرط نہیں۔
(انٹرو2)

مظفرآباد(مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور نے صدر آزاد کشمیر چوہدری لطیف اکبر پر حملے کا نوٹس لیتے ہوئے چیف سیکریٹری آزاد کشمیر اور آئی جی پولیس کو ذمہ داروں کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کی ہدایت کردی۔ وزیراعظم آزاد کشمیر نے سیکیورٹی کی ناقص صورتحال پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔فیصل ممتاز راٹھور نے کہا کہ ن لیگی شرپسند عناصر نے چوہدری لطیف اکبر پر حملہ کر کے ناقابلِ برداشت حرکت کی۔سیکرٹری جنرل پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز نیئر بخاری نے صدر آزاد کشمیر چوہدری لطیف اکبر پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مظفرآباد ڈویڑن میں مخالفین کو شکست واضح نظر آرہی ہے۔نیئر بخاری نے کہا کہ چوہدری لطیف اکبر پر حملہ ریاست کے آئینی عہدے پر حملہ ہے، حملہ آور مجرمان کو فوری گرفتار کر کے قانون کا نفاذ کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی دھونس اور دباؤ سے گھبرانے والی نہیں ہے، مظفرآباد میں ووٹرز کو روکنے کے لیے رکاوٹیں کھڑی کی جارہی ہیں۔قائم مقام صدر آزاد جموں و کشمیر چوہدری لطیف اکبر پر حملہ کیا گیا جب کہ پیپلز پارٹی نے الیکشن کمیشن کو ہنگامی شکایت کرتے ہوئے فوری کارروائی اور ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہ کر دیا۔پیپلز پارٹی کے مطابق پولنگ کے روز انتخابی عمل کے دوران قائم مقام صدر آزاد کشمیر اور پارٹی امیدوار چوہدری لطیف اکبر پر جسمانی حملہ کیا گیا، جو نہ صرف انتخابی عمل بلکہ ریاست کے آئینی وقار پر بھی حملہ ہے۔ پیپلز پارٹی کے مطابق یاسر شاہ، احمد شاہ اور فواد شاہ نے چوہدری لطیف اکبر پر حملہ کیا۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ قائم مقام صدر پر حملہ محض ایک انتخابی بے ضابطگی نہیں بلکہ ریاست کے آئینی منصب اور ریاستی نظم پر حملہ ہے، اس لیے اعلیٰ ترین سطح پر فوری ادارہ جاتی ردعمل ناگزیر ہے۔پیپلز پارٹی کے مطابق نامزد ملزمان کے خلاف ایف آئی آر درج کی جا رہی ہے اور ان کی گرفتاری کے لیے کارروائی جاری ہے۔پارٹی نے مطالبہ کیا کہ الیکشن کمیشن حملے کا فوری اور اعلیٰ سطح پر نوٹس لے اور پولیس و ضلعی انتظامیہ کے ساتھ رابطہ کر کے یاسر شاہ، احمد شاہ اور فواد شاہ کے خلاف مقدمہ درج کرائے۔قائم مقام صدر آزاد کشمیر چوہدری لطیف اکبر نے الیکشن کمیشن آزاد جموں و کشمیر کو دو خطوط ارسال کردیے، انہوں نے پولنگ کے دوران سیکیورٹی ناکامی اور مبینہ بیضابطگیوں پر کارروائی کا مطالبہ کردیا۔ چوہدری لطیف اکبر کا کہنا تھا کہ پولنگ اسٹیشنز پر مؤثر سیکیورٹی فراہم نہیں کی گئی۔ کئی مقامات پر پولنگ ایجنٹس کو اندر نہیں جانے دیا گیا۔انہوں نے تحریر کیا کہ فائرنگ، پولنگ میں مبینہ مداخلت اور ووٹرز کو حق رائے دہی سے محروم کیے جانے کی تحقیقات کی جائے۔قائم مقام صدر نے لکھا کہ کومی کوٹ اور جھنڈگراں میں پولنگ تاخیر سے شروع ہوئی۔ان کا کہنا تھا کہ ممتاز حسین نقوی پر مسلح حملہ ہوا، واقعے کی فوری تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔الیکشن کمیشن کو لکھے گئے اپنے خط میں چوہدری لطیف اکبر کا کہنا تھا کہ تمام واقعات کی شفاف تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ آزادانہ و منصفانہ انتخابی عمل یقینی بنایا جائے