وزیراعظم شہباز شریف سے ہماری کوئی لڑائی نہیں‘مسلم لیگ ن کا ایک خاص دھڑا وزیراعظم کی ہر کوشش کو ناکام بنانے میں مصروف ہے، جس کے باعث حکومتی معاملات مزید پیچیدہ ہو رہے ہیں‘ نظام ناکام نہیں اسے دانستہ طور پر ناکام بنایا گیا ہے
جو لوگ نظام ناکام ہونے کی بات کرتے ہیں، انہیں اس کا حل بھی قوم کے سامنے رکھنا چاہیے، ہر شخص خود کو سقراط سمجھتے ہوئے نسخہ پیش کرتا ہے مگر اصل بیماری کی نشاندہی کوئی نہیں کرتا‘ عوام کے فیصلے کا احترام کرنا ہوگا
ہم سے لڑائی چھیڑنی ہے تو چھیڑیں میں تو چاہوں گا ہمیں اس حکومت سے آزاد کریں‘ میں اگر اپوزیشن میں ہوتا تو انہیں لگ پتا جاتا، ن لیگ والے ووٹ کی عزت کریں جس کا ووٹ ہے اس کو پہنچے: باغ میں جلسہ عام سے خطاب
باغ(مانیٹرنگ ڈیسک) چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے کہا ہے آزاد کشمیر میں مرحلہ وار الیکشن دھاندلی کیلئے کرائے گئے۔آزاد کشمیر کے علاقے باغ میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے انہوںنے آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات، ملکی سیاسی صورتحال اور مسلم لیگ (ن) کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا، انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر کس مرحلے میں صاف، شفاف اور پرامن انتخابات ہوئے، اور الزام عائد کیا کہ مرحلہ وار انتخابات کرانے کا مقصد دھاندلی کرنا تھا۔ عوام انتخابی عمل کی شفافیت پر سوال اٹھا رہے ہیں اور اس کا جواب حکومت کے پاس نہیں، ’شیر‘ صرف طاقت اور اقتدار کا بھوکا ہے، تاہم مسلم لیگ (ن) کی یہ غلط فہمی ہے کہ وہ آزاد کشمیر میں حکومت بنانے جا رہی ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا ابھی آدھا انتخابی مرحلہ باقی ہے اور ان شاء اللہ جلد (ن) لیگ کو حقیقت کا اندازہ ہو جائے گا، مظفرآباد میں حکومت بنانے کے دعوے بھی حقیقت سے دور ہیں۔انہوں نے کہا اسلام آباد کی حکومت بھی خطرے میں ہے اور اس کی الٹی گنتی شروع ہو چکی ہے، وہ خود یہ بات نہیں کر رہے بلکہ ’بڑے بڑے لوگ‘ کہہ رہے ہیں کہ نظام (سسٹم) کلیپس کر چکا ہے۔ موجودہ سیاسی بحران کی ذمہ دار پاکستان پیپلز پارٹی نہیں بلکہ مسلم لیگ (ن) خود ہے، پیپلز پارٹی کی لڑائی صرف انتخابات تک محدود ہے، جب کہ مسلم لیگ (ن) کی اصل لڑائی اس کے اپنے اندر جاری ہے۔ مسلم لیگ (ن) کا ایک خاص دھڑا وزیراعظم کی ہر کوشش کو ناکام بنانے میں مصروف ہے، جس کے باعث حکومتی معاملات مزید پیچیدہ ہو رہے ہیں۔ آنے والے دنوں میں سیاسی صورتحال مزید واضح ہو جائے گی اور عوام کے فیصلے کا احترام کرنا ہوگا، ملک کا نظام ناکام نہیں بلکہ اسے دانستہ طور پر ناکام بنایا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ بار بار آئین توڑنے اور جمہوری عمل کو کمزور کرنے کے باعث نظام کو نقصان پہنچایا گیا، جو لوگ ’سسٹم کلیپس‘ کی بات کرتے ہیں، انہیں اس کا حل بھی قوم کے سامنے رکھنا چاہیے، کیونکہ ہر شخص خود کو سقراط سمجھتے ہوئے نسخہ پیش کرتا ہے مگر اصل بیماری کی نشاندہی کوئی نہیں کرتا۔ قومی مفاد کی خاطر وہ اسلام آباد کے ساتھ کھڑے ہیں، تاہم اگر کسی نے زبردستی تصادم مسلط کرنے کی کوشش کی تو اس کا مقابلہ کیا جائے گا، انہیں اپوزیشن کرنے کا بھی شوق ہے۔ پیپلزپارٹی کا کہنا تھا کہ 10 اگست کو اپنے ووٹ کا تحفظ کرنا ہوگا، اگر ناانصافی اور ظلم کیا گیا تو وہ خود کارکنوں کے ساتھ بیٹھ کر احتجاج کریں گے۔