لاہور کی سرکاری یونیورسٹی کامسیٹس میں اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر طیب چوہدری کی جانب سے طالب علم کو مبینہ طور پر لیپ ٹاپ نہ ہونے پر پوری کلاس کے سامنے تضحیک کا نشانہ بنانے کی وائرل ویڈیو پر اداکارہ و میزبان مشی خان نے شدید ردعمل دیا ہے۔
یہ واقعہ چند روز قبل پیش آیا جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے۔ سوشل میڈیا صارفین نے استاد کے رویے کو غیر اخلاقی قرار دیتے ہوئے طالب علم سے ہمدردی کا اظہار کیا۔متاثرہ طالب علم کے ساتھیوں کے مطابق پروفیسر نے نہ صرف اسے کلاس میں بےعزت کیا بلکہ اس کے بھائی کو بھی فون کروا کر لاؤڈ اسپیکر پر سب کے سامنے تضحیک کا نشانہ بنایا۔ واقعے کے بعد متاثرہ طالب علم ذہنی دباؤ کا شکار بتایا جا رہا ہے۔مشی خان نے انسٹاگرام پر اپنے ویڈیو بیان میں پروفیسر پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا:"یہ استاد تعلیم کے نام پر ایک دھبہ ہے۔ اس نے ایک یتیم بچے کو کلاس کے 50 سے 60 طلبہ کے سامنے ذلیل کیا، حتیٰ کہ اس کے والد کے انتقال کا طعنہ بھی دیا۔"
اداکارہ نے مزید کہا کہ پروفیسر نے طلبہ کو خیرات جمع کرنے کا کہا تاکہ وہ طالب علم لیپ ٹاپ خرید سکے۔ انہوں نے یونیورسٹی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ ایسے رویے کے حامل افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے واقعے پر تاحال کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔