پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ کشیدگی نے ایک بار پھر پاکستانی فنکاروں کے نظریات کو منظرِ عام پر لا کھڑا کیا ہے، اور اس کے نتیجے میں سوشل میڈیا پر بحث کا بازار گرم ہو گیا ہے۔
ثنا نواز نے انسٹاگرام پر ایک ویڈیو شیئر کی جس میں انہوں نے کہا کہ فنکار سرحدوں سے ماورا ہوتے ہیں اور ان کا مقصد محبت اور مثبت پیغام پھیلانا ہوتا ہے۔ ان کا یہ بیان ایک مصالحت پسندانہ اور غیرجانبدار رائے کے طور پر لیا گیا، لیکن بھارت کے جارحانہ رویے کے تناظر میں اس پر شدید ردعمل سامنے آیا۔ پاکستانی عوام کی جانب سے ثنا نواز کی خاموشی اور اس بیان پر تنقید کی گئی ہے۔میشی خان، جو کہ اپنے واضح اور وطن پرست موقف کے لیے مشہور ہیں، نے ثنا نواز کے اس بیان پر سخت ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر فنکار واقعی سرحدوں سے آزاد ہوتے تو وہ دنیا بھر میں بغیر پاسپورٹ کے سفر کر سکتے تھے، لیکن وہ امیگریشن قوانین اور پاسپورٹ کی ضرورت کیوں سمجھتی ہیں؟ مشی خان کا کہنا تھا کہ جب وطن کی خودمختاری کی بات ہو تو فنکاروں کو اپنے موقف کو واضح طور پر پیش کرنا چاہیے۔
میشی خان نے مزید کہا کہ بھارتی فنکاروں کی مثال سامنے رکھتے ہوئے جو اپنے ملک کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں، ہمیں بھی اپنی غیرت اور حب الوطنی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہمیں وطن کو سب سے پہلے ترجیح دینی چاہیے اور دوستی ایک طرف، لیکن ملک کی عزت و وقار سب سے اہم ہے۔سوشل میڈیا پر مشی خان کے اس دوٹوک موقف کو بہت سراہا گیا، اور صارفین نے کہا کہ مشی خان جیسی صاف گو اور جرات مند شخصیت کو پاکستان کا کلچرل ایمبیسیڈر ہونا چاہیے۔ اس کے ساتھ ہی، کئی لوگوں نے یہ بھی کہا کہ ثنا نواز کو سمجھنا چاہیے کہ دوستی اپنی جگہ لیکن وطن کی عظمت سب سے پہلے ہے۔