ویب ڈیسک: بھارتی ریاست کرناٹک کے ضلع چترادرگہ میں "خاندانی عزت" کے نام پر ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا، جہاں بہن اور بہنوئی نے ایچ آئی وی سے متاثرہ نوجوان ملیکارجن کو گلا گھونٹ کر قتل کر دیا۔
حادثے کے بعد ایچ آئی وی کی تشخیص
پولیس کے مطابق مقتول ملیکارجن بنگلور کی ایک نجی کمپنی میں ملازمت کرتا تھا۔ چند روز قبل وہ اپنے دوستوں کے ہمراہ گاؤں آ رہا تھا کہ راستے میں ان کی گاڑی ایک ٹرک سے ٹکرا گئی۔ حادثے میں زخمی ہونے پر اسپتال میں معائنے کے دوران ملیکارجن کے ایچ آئی وی پازیٹو ہونے کا انکشاف ہوا۔
علاج کے بہانے قتل
ملیکارجن کی بہن نیشا اور بہنوئی منجوناتھ نے علاج کے لیے اسے بنگلور لے جانے کی ذمہ داری لی، مگر راستے میں انہوں نے مبینہ طور پر کمبل سے اس کا گلا گھونٹ کر قتل کر دیا۔ بعد ازاں دونوں نے دعویٰ کیا کہ ملیکارجن راستے میں اچانک فوت ہو گیا۔
والد کے شک پر حقیقت بے نقاب
ملیکارجن کے والد کو بیٹی کی کہانی پر شک ہوا، جس کے بعد تحقیقات کے دوران حقیقت سامنے آئی۔ پولیس نے نیشا کو گرفتار کر لیا جبکہ اس کا شوہر منجوناتھ تاحال فرار ہے۔
"بدنامی" کے خوف میں قتل
پولیس کے مطابق قاتل جوڑے کو خدشہ تھا کہ ملیکارجن کے ایچ آئی وی پازیٹو ہونے سے خاندان کی "بدنامی" اور سماجی شرمندگی ہوگی، اسی لیے انہوں نے اسے قتل کرنے کا انتہائی قدم اٹھایا۔