ایران کے صوبہ ہرمزگان کے شہر مناب میں مبینہ حملے میں جاں بحق ہونے والے بچوں کے والدین نے عیسائیوں کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو ایک جذباتی خط لکھا ہے، جس میں انہوں نے تشدد کے خلاف آواز اٹھانے پر ان کا شکریہ ادا کیا۔
رپورٹس کے مطابق اس حملے میں 168 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں بڑی تعداد بچوں کی تھی۔ واقعے کی عالمی سطح پر مذمت کی گئی، جبکہ متاثرہ خاندانوں نے اپنے خط میں شدید دکھ اور غم کا اظہار کیا۔ والدین نے لکھا کہ وہ اپنے بچوں کی یادوں کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں اور دنیا سے اپیل کرتے ہیں کہ ایسے سانحات کی روک تھام کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔خط میں پوپ لیو کی جانب سے امن، مکالمے اور تشدد کے خاتمے کے پیغامات کو سراہا گیا۔ والدین کا کہنا تھا کہ جب دنیا خاموش تھی، اس وقت پوپ کے الفاظ ان کے زخموں پر مرہم ثابت ہوئے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ عالمی رہنما مل کر ایسے اقدامات کریں گے تاکہ مستقبل میں کسی بھی والدین کو اپنے بچوں کی جدائی کا غم نہ سہنا پڑے۔یاد رہے کہ اس سے قبل بھی ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات اور خطے میں کشیدگی کے تناظر میں پوپ لیو نے امن اور تحمل کی اپیل کی تھی، اور واضح کیا تھا کہ پائیدار امن صرف بات چیت اور ذمہ دارانہ سفارت کاری سے ہی ممکن ہے، نہ کہ طاقت یا ہتھیاروں کے استعمال سے۔