بھارت میں انسانیت سوز واقعہ: بہن کی موت ثابت کرنے بھائی قبر کھود کر ڈھانچہ بینک لے آیا

بھارت میں انسانیت سوز واقعہ: بہن کی موت ثابت کرنے بھائی قبر کھود کر ڈھانچہ بینک لے آیا

یہ دل دہلا دینے والا واقعہ ریاست اڑیسہ کے ایک گاؤں میں پیش آیا، جہاں ایک شخص نے اپنی مرحومہ بہن کی باقیات لے کر بینک پہنچ کر رقم نکالنے کی کوشش کی۔

یہ واقعہ انسانی جذبات، قانونی پیچیدگیوں اور معاشرتی مسائل کے امتزاج کا منظر ہے۔تفصیلات کے مطابق، جیتو منڈا نامی شہری کی بہن، کالرا منڈا، کا اڑیسہ گرامین بینک میں 19,300 روپے جمع تھے۔ دو ماہ قبل، کالرا منڈا کا انتقال ہو چکا تھا، اور اس کے شوہر اور اکلوتے بچے بھی وفات پا چکے تھے، یوں جیتو اس کا واحد زندہ رشتہ دار تھا۔ جب جیتو نے اپنی بہن کے اکاؤنٹ سے رقم نکلوانا چاہی، تو بینک منیجر نے اسے سختی سے بتایا کہ اس کے پاس صرف موت کا سرٹیفکیٹ اور قانونی وراثت کا ثبوت ہونا ضروری ہے، کیونکہ مرحومہ کا اکاؤنٹ قانونی طور پر غیر فعال یا بند ہو سکتا ہے، اور اس کے بغیر رقم نکالنا ممکن نہیں ہے۔ مگر جیتو کے پاس نہ تو کوئی دستاویزات تھیں اور نہ ہی اسے اس عمل کے قانونی طریقے کا علم تھا۔
اس صورتحال سے مایوس ہو کر، جیتو نے گاؤں جا کر اپنی بہن کی قبر کھودی، اور باقیات کو نکال کر کپڑے میں لپیٹ لیا۔ پھر وہ اپنی بہن کی باقیات لے کر بینک پہنچا، تاکہ اپنی قانونی حق کے لیے کوشش کرے۔ یہ منظر دیکھ کر بینک انتظامیہ حیرت اور غم و غصے سے بھر گیا، اور وہاں ہلچل مچ گئی۔یہ واقعہ انسانی ہمدردی، قانون اور معاشرتی نظام کے درمیان موجود کشمکش کو ظاہر کرتا ہے۔ جہاں ایک طرف انسانی جذبات اور محبت کی انتہا ہے، وہیں دوسری طرف قانونی عمل اور دستاویزات کی اہمیت بھی واضح ہوتی ہے۔ اس واقعہ نے معاشرے میں ایک بڑا سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا قانونی پیچیدگیوں کے سبب انسان اپنی محبت اور احساسات کی قربانی دے سکتا ہے یا نہیں۔