بھارت میں جہیز کے تنازع پر بہو کو ایچ آئی وی انجکشن لگانے کا واقعہ

بھارت میں جہیز کے تنازع پر بہو کو ایچ آئی وی انجکشن لگانے کا واقعہ

بھارت میں جہیز کی لعنت اور خواتین کے حقوق کی سنگین صورتحال کو اجاگر کرتا ہے۔

 اتر پردیش کے ضلع سہارنپور میں ایک 30 سالہ خاتون کو سسرال والوں نے نہ صرف ذہنی و جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا بلکہ مبینہ طور پر اسے ایچ آئی وی سے متاثرہ انجکشن بھی لگایا۔ اس کے بعد اس کی صحت تیزی سے بگڑ گئی اور طبی معائنے میں وہ ایچ آئی وی پازیٹیو پائی گئی، حالانکہ اس کا شوہر ایچ آئی وی منفی تھا۔متاثرہ خاتون کے والد کی جانب سے پولیس میں شکایت درج کرانے کی کوشش کی گئی، مگر متعلقہ حکام نے اس کی درخواست پر کوئی فوری کارروائی نہیں کی۔ بالآخر عدالت سے انصاف کی اپیل کی گئی، جس کے بعد پولیس نے مقدمہ درج کر لیا۔ ایف آئی آر میں اقدام قتل، گھریلو تشدد، زہر دینے، جسمانی تشدد اور جہیز سے متعلق دفعات شامل کی گئی ہیں۔یہ کیس نہ صرف بھارت میں جہیز کے خلاف قوانین پر سوالات اٹھاتا ہے، بلکہ یہ خواتین کے حقوق اور ان کے تحفظ کے نظام کی ناکامی کو بھی نمایاں کرتا ہے۔ اس واقعہ کے بعد کئی سوالات اٹھتے ہیں کہ کیا اس خاتون کو انصاف ملے گا یا یہ کیس بھی کئی دوسرے متاثرہ خواتین کے کیسز کی طرح دب کر رہ جائے گا۔