بنگلہ دیش کے ضلع شیرپور میں انتخابی سرگرمی کے دوران بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) اور جماعتِ اسلامی کے کارکنان کے درمیان ہونے والے شدید تصادم کے نتیجے میں جماعتِ اسلامی کے ایک سینئر مقامی رہنما مولانا رضا الکریم جاں بحق ہو گئے، جس کے بعد ملک میں آئندہ عام انتخابات سے قبل بڑھتے ہوئے سیاسی تشدد پر سنگین خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ ضلع شیرپور کے علاقے جھینائی گاتی میں اس وقت پیش آیا جب مقامی انتظامیہ کی جانب سے شیرپور-3 کے حلقے میں امیدواروں کے انتخابی منشور پڑھنے کی ایک تقریب منعقد کی جا رہی تھی۔ تقریب کے دوران نشستوں کے معاملے پر بی این پی اور جماعتِ اسلامی کے حامیوں کے درمیان تلخ کلامی شروع ہوئی، جو دیکھتے ہی دیکھتے پرتشدد جھڑپ میں تبدیل ہو گئی۔عینی شاہدین کے مطابق دونوں جماعتوں کے کارکنان نے ایک دوسرے پر لاٹھیاں، کرسیاں اور دیگر اشیا پھینکیں، جس کے نتیجے میں سینکڑوں کرسیاں ٹوٹ گئیں جبکہ متعدد موٹر سائیکلوں کو بھی نقصان پہنچا۔ اس تصادم کے دوران کم از کم 30 افراد زخمی ہوئے، جن میں سے کئی کی حالت تشویشناک بتائی گئی۔
جھڑپ کے دوران جماعتِ اسلامی کے مقامی سینئر رہنما مولانا رضا الکریم شدید زخمی ہو گئے۔ وہ جماعتِ اسلامی کی سری بردی اپازلا شاخ کے سیکریٹری تھے اور ساتھ ہی فتح پور فاضل مدرسہ میں عربی کے لیکچرار کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہیں فوری طور پر تشویشناک حالت میں میمن سنگھ میڈیکل کالج ہسپتال منتقل کیا جا رہا تھا، تاہم وہ راستے میں ہی دم توڑ گئے۔پولیس کے مطابق مولانا رضا الکریم کو رات 9 بج کر 35 منٹ پر ہسپتال پہنچایا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے ان کے انتقال کی تصدیق کر دی۔ بعد ازاں ان کی لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا گیا۔
جماعتِ اسلامی کے شیرپور-3 سے امیدوار نورالزمان (بادل) نے واقعے کے بعد فیس بک پر جاری بیان میں الزام عائد کیا کہ حملہ بی این پی کے کارکنوں نے کیا، جس کے نتیجے میں جماعتِ اسلامی کے 50 سے زائد کارکن زخمی ہوئے، جبکہ کم از کم تین افراد کی حالت تشویشناک ہے۔واقعے پر جماعتِ اسلامی کے سیکریٹری جنرل میاں غلام پروار نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے سیاسی تشدد کی سخت مذمت کی اور ذمہ داران کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔ ادھر اے بی پارٹی کے رہنماؤں نے بھی واقعے کو منظم سیاسی دہشتگردی قرار دیتے ہوئے اسے جمہوری عمل کے لیے خطرہ قرار دیا۔
دوسری جانب جماعتِ اسلامی کی طلبہ تنظیم اسلامی چھاترا شبِر نے مولانا رضا الکریم کے قتل کے خلاف ڈھاکا یونیورسٹی میں رات گئے احتجاجی مظاہرہ کیا اور واقعے میں ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا۔سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ واقعہ بنگلہ دیش میں آئندہ 13ویں قومی پارلیمانی انتخابات سے قبل بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی اور انتخابی تشدد کے خطرناک رجحان کی عکاسی کرتا ہے، جس پر قابو پانا حکومت اور الیکشن کمیشن کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔