امیر جماعتِ اسلامی کراچی منعم ظفر نے کراچی میں حکومت کی عدم موجودگی پر تنقید کی اور کہا کہ شہر میں کوئی حکومتی نظم نظر نہیں آتا۔
انہوں نے بتایا کہ ہیوی ٹریفک کے بڑھتے ہوئے حادثات پر پٹیشن دائر کی ہے اور روڈ سیفٹی قانون پر عملدرآمد میں کمی کی شکایت کی۔ منعم ظفر نے شہر میں اوور لوڈنگ اور ناتجربہ کار ڈرائیورز کے سبب حادثات میں اضافے کی نشاندہی کی۔انہوں نے کراچی میں ٹینکر مافیا کے خاتمے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ شہری ٹیکس دیتے ہیں، پھر بھی پانی خرید کر پیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جمعے کو شہر کے مختلف علاقوں میں احتجاج کیا جائے گا۔امیر جماعتِ اسلامی کراچی نے کراچی کی ٹرانسپورٹ سہولتوں کی کمی پر بھی بات کی اور کہا کہ شہر کو 1500 بسوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے شاہراہ پاکستان پر رات کے وقت ہیوی ٹریفک کے مسلسل چلنے کا ذکر کیا اور کہا کہ این ایچ اے نے ٹول ٹیکس میں اضافہ کر دیا ہے۔منعم ظفر نے کراچی کے سیاسی منظرنامے پر بھی تبصرہ کیا اور کہا کہ شہر میں 1986ء سے جلاؤ گھیراؤ ہوتا آ رہا ہے اور تمام سیاسی جماعتیں شاہانہ خرچوں کے لیے یکجا ہوتی ہیں۔