مشرقی وسطی میں امریکی بحری بیڑے کی تعیناتی کے بعد ایران ہم سے مذاکرات کرنا چاہتا ہے سفارتکاری اب بھی ایک آپشن ہے‘امریکہ سرمایہ کاروں کیلئے محفوظ ملک ہے:امریکی صدر
ایران کا آبنائے ہرمز میں فوجی مشقوں کا فیصلہ، فضائی حدود کا نوٹم جاری ‘ایران نے حملہ کیا تو ایسا جواب دیں گے جو پہلے کبھی نہیں دیکھا ہوگا:اسرائیلی وزیراعظم
واشنگٹن‘تہران‘تل ابیب (آ ئی این پی )امریکہ نے یو ایس ایس ابراہیم لنکن کے بعد ایک اور بحری بیڑہ جارج واشنگٹن ایران کی طرف روانہ کردیا ،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ مشرقی وسطی میں امریکی بحری بیڑے کی تعیناتی کے بعد ایران امریکا کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہتا ہے۔صدر ٹرمپ نے امریکی ویب سائٹ کو دئیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ ایران کے ساتھ صورتحال اس وقت غیر یقینی ہے کیونکہ انہوں نے مشرقِ وسطی میں بڑی فورس تعینات کر دی ہے۔ٹرمپ نے کہا کہ ان کا بحری بیڑہ ایران کے قریب موجود ہے جو وینزویلا میں استعمال ہونے والی فوجی قوت سے بھی بڑا ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے قومی سلامتی ٹیم کی جانب سے پیش کیے گئے ممکنہ آپشنز پر بات کرنے سے گریز کیا۔صدر ٹرمپ نے کہا کہ سفارتکاری اب بھی ایک آپشن ہے۔ ایران کئی بار رابطہ کر چکا ہے اور مشرقی وسطی میں فوجی تعیناتی کے بعد ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے۔ امریکی صدر نے آئیوا میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جون میں ایران کی جوہری صلاحیت کو ختم کیا، ایران میں فوجی کارروائی میں کوئی بھی شہری نہیں ماراگیا،امید ہے ایران ہم سے ڈیل کرلے گا۔دریں اثناء امریکہ کی جنگی مشقوں اور بحری بیڑے کی مشرقی وسطی آمد کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز میں فوجی مشقوں کا اعلان کر دیا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایران نے فوجی مشقوں کے تناظر میں فضائی حدود کا نوٹم جاری کر دیا ہے۔ نوٹم میں کہا گیاکہ آبنائے ہرمز کے اطراف پرواز 29 جنوری تک 25 ہزار فٹ سے نیچے نہ کی جائیں۔ ایرانی حکام نے بتایا کہ یہ مشقیں 9 کلو میٹر کی حدود میں ہوں گی۔ادھر پاسدران انقلاب نے بھی دوٹوک الفاظ میں واضح کردیا کہ امریکی جہاز ایرانی سمندری حدود میں آئے تو حملہ کریں گے۔پاسدران انقلاب نے بیان میں کہا کہ امریکی صدر گفتگو زیادہ کرتے ہیں، جنگ کا فیصلہ تو میدان میں ہوگا‘ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے دھمکی دی ہہے ایران نے اسرائیل پر حملہ کیا تو ایسا جواب دیں گے جو پہلے کبھی نہیں دیکھا ہوگا۔نیتن یاہو نے کہا کہ ایران حملہ کرنے کی غلطی نہ کرے ، اگر ایران نے حملہ کیا تو ہم بھرپور ، طاقتور اور پوری قوت سے جواب دیں گے