امریکی جنگی طیاروں نے ایرانی فضائی دفاعی نظام، گرائونڈ کنٹرول سٹیشن،ڈرونز کو تبا ہ کر دیا‘ جنوبی ایران کے جزیرہ سیرک میں ٹیلی کمیونیکیشن ٹاور کو میزائل سے نشانہ بنایا:سینٹ کام
جو اڈے ایران پر حملوں کیلئے استعمال ہوں گے، نشانہ بنائیں گے،ان ریاستوں کی ذمہ داری ہے وہ اپنی سرزمین استعمال نہ ہونے دیں: ترجمان ایرانی وزارتِ خارجہ
واشنگٹن‘تہران(آئی این پی‘مانیٹرنگ ڈیسک)سینٹکام کا کہنا ہے ہفتہ اور اتوارکی رات ایران کے گورک اورجزیرہ قشم میں ڈرونز کے کمانڈ اینڈ کنٹرول تنصیبات پرحملے کئے گئے، یہ کارروائیاں ایران کی جانب سے جارحانہ اقدامات کے جواب میں کی گئیں۔سینٹکام کے مطابق ایرانی کارروائیوں میں بین الاقوامی فضائی حدود میں امریکی ڈرون مار گرانا بھی شامل ہے، امریکی جنگی طیاروں نے ایرانی فضائی دفاعی نظام، گرائونڈ کنٹرول اسٹیشن،ڈرونز کو تبا ہ کر دیا۔ادھر امریکا نے جنوبی ایران کے جزیرہ سیرک میں ٹیلی کمیونیکیشن ٹاور کو میزائل سے نشانہ بنایا۔امریکی حملے کے جواب میں ایرانی پاسداران انقلاب نے کہا کہ جزیرہ سیرک پر امریکی حملے کیلئے استعمال ہوئے فضائی اڈے کو نشانہ بنایا ہے۔دریں اثناء ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے امریکی فضائی اڈے پر جوابی حملہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ایرانی مہر نیوز ایجنسی کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے ایک امریکی فضائی اڈے کو نشانہ بنایا جہاں سے ایران کے صوبہ ہرمزگان کے جزیرے سِرک پر ٹیلی کمیونیکیشن ٹاور پر حملہ کیا گیا۔پاسدارانِ انقلاب نے کہا کہ اس کی ایرو اسپیس فورس نے اس اڈے کو نشانہ بنایا اور تباہ کر دیا جہاں سے امریکی افواج نے مواصلاتی سہولت کے خلاف آپریشن شروع کیا تھا۔ترجمان ایرانی وزارتِ خارجہ اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ ایران قومی سلامتی کے تحفظ کیلئے جوابی کارروائی سے دریغ نہیں کرے گا، خطے کی صورتحال کو مسلسل مانیٹر کررہے ہیں۔اسماعیل بقائی نے کہا کہ امریکی اڈوں پر حملے پر حق دفاع کے طور کئے گئے، جو اڈے ایران پر حملوں کیلئے استعمال ہوں گے،انہیں نشانہ بنائیں گے، ریاستوں کی ذمہ داری ہے وہ اپنی سرزمین استعمال نہ ہونے دیں۔ترجمان ایرانی وزارتِ خارجہ کے مطابق لبنان میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے،اس میں امریکا بھی شریک ہے، مذاکراتی عمل اس وقت تک طویل ہوتا رہے گا جب تک امریکا اپنی پوزیشن تبدیل کرے گا، لبنان میں اسرائیلی کارروائیاں امن عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوشش ہے