ایران کے پاس معاہدے کیلئے پیر تک وقت ہے(ڈونلڈ ٹرمپ) جنگ خطے سے باہر تک پھیل جائیگی پاسداران انقلاب

ایران کے معاملے پر میرے اور نیتن یاہو کے درمیان اتفاق ہے‘  جنگ جلد ختم ہو سکتی  ہے، ایران ڈیل چاہتا ہے‘ڈیل نہ ہوئی تودوبارہ حملہ کر سکتے ہیں:امریکی صدر
جارحیت دوبارہ شروع کی گئی تو جنگ میں جو کچھ سیکھا اس کی مدد سے مزید حیرت انگیز ردعمل دیا جائے گا: وزیر خار جہ ‘
امریکہ اور اسرائیل نے سٹریٹجک ناکامیوں سے کوئی سبق نہیں سیکھا:ایرانی فوج
واشنگٹن‘تہران(مانیٹرنگ ڈیسک‘ایجنسیاں)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے  ایران کے معاملے پر میرے اور نیتن یاہو کے درمیان اتفاق ہے۔ ایران میں لوگوں کی حالت انتہائی خراب ہے، وہ ڈیل چاہتا ہے۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ نیتن یاہو کو جو کہیں گے وہ کرے گا۔ ایران ڈیل کرنے کیلیے بیتاب ہے۔ ایران کے ساتھ ڈیل نہیں ہوئی تو امریکا دوبارہ حملہ کرسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کو بھی کھول دیں گے لیکن مجھے کوئی جلدی نہیں۔ٹرمپ نے ولادیمیر پیوٹن کے دورہ چین پر صرف اتنا تبصرہ کیا کہ روسی صدر کا دورہ چین اچھی بات ہے، صدر پیوٹن کی استقبالیہ تقریب اتنی شاندار نہیں تھی جتنی میری تھی۔دریں اثناء  ایران پر حملہ موخر کرنے کے اعلان کے  بعد امریکی  صدر  ڈونلڈ ٹرمپ کی زیر صدارت جنگی منصوبوں پر اہم اجلاس ہوا ہے جس میں مختلف آپشنز پر غور کیا گیا۔ ٹرمپ نے وائٹ ہائو س میں قومی سلامتی ٹیم کے ساتھ ہنگامی میٹنگ کی، اجلاس میں امریکی نائب صدر، وزیر خارجہ، وزیر دفاع اور دیگر فوجی حکام شریک ہوئے، اجلاس میں ایران جنگ کی صورتحال سے متعلق مختلف آپشنز پر غور کیا گیا، مختلف فوجی آپریشنز اور سفارتی کوششوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔بعدازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایران کے حوالے سے مثبت پیشرفت ہوئی ہے، جس کے بعد ہم یہ جنگ تیزی سے ختم کر دیں گے، ایران کو کسی صورت ایٹمی ہتھیار رکھنے نہیں دیں گے‘یران کے وزیرخارجہ عباس عراقچی نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ جارحیت دوبارہ شروع کی گئی تو اس کے نتائج پہلے سے زیادہ حیران کن ہوں گے، جنگ میں جو کچھ سیکھا ہے، اس کی مدد سے مزید حیرت انگیز ردعمل دیا جائے گا۔  ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے خبردار  کیا ہے  کہ اگر دشمن نے دوبارہ حملے کیے تو جنگ خطے سے باہرپھیل جائیگی۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری بیان میں کہاگیاکہ امریکا اوراسرائیل نے اسٹریٹجک ناکامیوں سے کوئی سبق نہیں سیکھا،امریکا ایک بارپھردھمکیوں کی زبان استعمال کررہا ہے،ہم نے دشمن کے خلاف ابھی اسلامی انقلاب کی صلاحیتیں استعمال نہیں کیں۔  بیان میں مزیدکہا گیا ہے کہ  ہمارے حملے ایسے مقامات تک پہنچیں گے جن کا آپ تصوربھی نہیں کرسکتے،آپ ہماری طاقت میدانِ جنگ میں دیکھیں گے،ہم جنگی لوگ ہیں خیالی بیانات اور آن لائن باتوں پر یقین نہیں رکھتے۔