میرے درواز کھلے ہیں‘ توقع رکھتا ہوں دونوں طرف سے مذاکرات کئے جائیں:ایازصادق‘ ہم اجلاس میں آئے ہیں تو کچھ نہ کچھ لے کر آئے ہوں گے:اسحاق ڈار
حکومتی کمیٹی 31 جنوری تک رہے گی:عرفان صدیقی‘حکومت مذاکرات کے راستے کھلے رکھنا چاہتی ہے، کمیٹی تحلیل ہونے کے حوالے سے پیشنگوئی نہیں کر سکتا:خواجہ آصف
اسلام آباد(آئی این پی ) سپیکر قومی اسمبلی نے پی ٹی آئی کے نہ آنے پر مذاکراتی کمیٹی کا چوتھا اجلاس ملتوی کردیا تاہم کمیٹی کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔اسپیکر ایاز صادق نے اجلاس سے قبل گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ اجلاس میں فیصلہ ہوا تھا کہ 7 ورکنگ دنوں میں دوبارہ اجلاس ہوگا، آج 7 دن پورے ہوگئے، اس متعلق ہم نے سب کو اجلاس کی دعوت دی، توقع تھی کہ اپوزیشن کے ارکان آئیں گے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے 45 منٹ انتظار کیا، ان کی طرف سے پیغام آیا کہ وہ نہیں آئیں گے، میں نے پی ٹی آئی سے رابطہ کیا ہے، پی ٹی آئی ارکان نے کہا ہے کہ ہم اپنی اعلی قیادت سے رابطہ کرکے بتائیں گے۔ایاز صادق کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کی غیر موجودگی کی وجہ سے مذاکرات نہیں چل سکے، اس میٹنگ کو آگے رکھنے کا کوئی مقصد نہیں بنتا، اس لیے آج کی میٹنگ ملتوی کررہے ہیں لیکن میرے درواز کھلے ہیں توقع رکھتا ہوں دونوں طرف سے مذاکرات کیے جائیں۔اسپیکر قومی اسمبلی نے اعلان کیا کہ مذاکراتی کمیٹی قائم رہے گی اسے تحلیل نہیں کررہے۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ ہم اگر اجلاس میں آئے ہیں تو کچھ نہ کچھ لے کر آئے ہوں گے، ہم نے پی ٹی آئی کے مطالبات کا جواب تیار کیا ہوا ہے، ہماری مثبت کوشش ہے کہ بات چیت آگے بڑھے، اس سے پہلے بھی مذاکرات ہوتے رہے ہیں، امید کرتے ہیں وہ آئیں گے ہم جواب دیں گے اور ہم جواب دینا چاہتے تھے، جب تک آئیں گے نہیں تو جواب کیسے دیں گے‘حکومتی مذاکرات کمیٹی کے ترجمان سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا ہے پی ٹی آئی نے عملی طور پر مذاکرات ختم کردئیے، حکومتی کمیٹی 31 جنوری تک موجود رہے گی، اس دوران پی ٹی آئی نے دوبارہ اسپیکر سے رابطہ کیا تو ہماری کمیٹی ان کے ساتھ بیٹھ جائے گی‘میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیردفاع خواجہ آصف نے کہا وہ مذاکراتی کمیٹی کا حصہ نہیں ہیں، تاہم اگر پی ٹی آئی انکار کرتی ہے تو مذاکرات کی مشق لاحاصل ہوگی۔،حکومت مذاکرات کے راستے ہمیشہ کھلے رکھنا چاہتی ہے اور مذاکرات کے راستے بند کرنا جمہوریت کے خلاف ہے۔صحافی نے خواجہ آصف سے سوال کیا کہ مذاکرات کے راستے بند ہوتے نظر آرہے ہیں؟۔جس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے راستے بند کرنا جمہوریت کے خلاف ہے، ہر حالات میں کوئی نا کوئی حل نکل آتا ہے۔