کراچی میں سیکیورٹی فورسز اور پولیس کی بروقت کارروائی نے ایک بڑے سانحے کو روک دیا، جب بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کی جانب سے ذہن سازی کے ذریعے ایک خاتون کو خودکش بمبار بنانے کی کوشش کی گئی تھی۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ پولیس نے خاتون کو راستے میں ہی گرفتار کر کے تباہی سے بچا لیا۔عطا تارڑ کے مطابق بی ایل اے نوجوانوں اور خواتین کو ذہنی تربیت دے کر دہشت گردی کے لیے استعمال کرتی ہے اور یہ تنظیم ماہ رنگ بلوچ کی مکمل حمایتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل سائبر کرائم ایجنسی قائم کر دی گئی ہے اور دہشت گردی سے متعلق مواد پر زیرو ٹالرنس کی پالیسی اختیار کی گئی ہے۔ وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ دہشت گردوں کا خاتمہ گراؤنڈ اور سوشل میڈیا دونوں سطحوں پر کیا جا رہا ہے۔وزیر داخلہ سندھ ضیا لنجار نے انکشاف کیا کہ دہشت گرد تنظیمیں سوشل میڈیا کے ذریعے بلوچ بچیوں کو خودکش بمبار بنانے کی تربیت دیتی ہیں، اور والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر محتاط نظر رکھیں۔
انہوں نے بتایا کہ ایک بچی سے سوشل میڈیا کے ذریعے رابطہ کیا گیا اور اس کی ذہن سازی کی گئی، لیکن سیکیورٹی اداروں کی بروقت مداخلت سے بچی کو خودکش بمبار بننے سے بچا لیا گیا۔یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سوشل میڈیا دہشت گرد تنظیموں کے لیے نوجوانوں اور خواتین کو ہدف بنانے کا ایک مؤثر ذریعہ بن گیا ہے، جس پر سخت نگرانی اور فوری کارروائی ضروری ہے۔