عطا تارڑ کی گاڑی کے قریب فائرنگ: پولیس نے مقدمہ درج کر لیا، ملزم پر سنگین دفعات عائد

عطا تارڑ کی گاڑی کے قریب فائرنگ: پولیس نے مقدمہ درج کر لیا، ملزم پر سنگین دفعات عائد

لاہور کے علاقے تھانہ ڈیفنس اے کی حدود میں وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کی گاڑی کے قریب مبینہ ہوائی فائرنگ کے واقعے پر پولیس نے اپنی مدعیت میں مقدمہ درج کر لیا ہے، جبکہ ملزم کے خلاف مختلف سنگین دفعات کے تحت قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق مقدمہ تھانہ ڈیفنس اے کے اسسٹنٹ سب انسپکٹر عبدالحمید کی مدعیت میں درج کیا گیا، جس میں ملزم پر غفلت، لاپرواہی، خطرناک ڈرائیونگ، سرکاری اہلکاروں کی کارروائی میں مزاحمت اور دوسروں کی جان و مال کو خطرے میں ڈالنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ مقدمہ تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 337-H(2)، 440، 427، 279 اور 186 کے تحت درج کیا گیا ہے۔ایف آئی آر کے متن کے مطابق پولیس کو ڈیفنس موڑ پر ون فائیو کے ذریعے ہوائی فائرنگ کی اطلاع موصول ہوئی، جس پر پولیس اہلکار موقع پر پہنچے اور مشتبہ کار سوار کو روکنے کی کوشش کی۔ تاہم ملزم نے رکنے کے بجائے پولیس اہلکاروں کو خوفزدہ کرنے کے لیے فائرنگ کی، تیز رفتاری اور زگ زیگ ڈرائیونگ کرتے ہوئے فرار ہونے کی کوشش کی اور راستے میں نصب پولیس بیریئر بھی توڑ دیا۔پولیس کا کہنا ہے کہ جائے وقوعہ سے چار گولیوں کے خول برآمد کر لیے گئے ہیں، جنہیں فرانزک جانچ کے لیے بھجوا دیا گیا ہے، جبکہ واقعے کے تمام پہلوؤں کی تحقیقات جاری ہیں۔

یاد رہے کہ گزشتہ رات ڈیفنس اے کے علاقے میں ایک کار سوار نوجوان نے مبینہ طور پر وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کی گاڑی کے قریب ہوائی فائرنگ کی تھی۔ واقعے کے فوری بعد پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے متحرک ہو گئے اور تعاقب کے بعد ملزم کو اسلحے سمیت گرفتار کر لیا۔ پولیس نے ملزم کی گاڑی بھی تحویل میں لے لی ہے۔پولیس ذرائع کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ ملزم نے وفاقی وزیر کی گاڑی کو اوورٹیک کرنے کے بعد مبینہ طور پر ہوائی فائرنگ کی، جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ واقعے کے بعد سکیورٹی اداروں نے مختلف مقامات پر کارروائیاں کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کیا۔دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کی والدہ ساجدہ تارڑ نے واقعے کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ رات تقریباً تین بجے اس وقت پیش آیا جب عطا اللہ تارڑ گھر واپس آ رہے تھے۔ ان کے مطابق فائرنگ کے باوجود وفاقی وزیر مکمل طور پر محفوظ رہے۔

ساجدہ تارڑ نے بتایا کہ فائرنگ ہوتے ہی عطا اللہ تارڑ نے مشتبہ گاڑی کا تعاقب کیا اور بیک وقت پولیس کو بھی اطلاع دی، جس پر پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کر لیا۔انہوں نے مزید کہا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق گرفتار نوجوان کا مقصد وفاقی وزیر کو نشانہ بنانا نہیں تھا، بلکہ بظاہر وہ نشے کی حالت میں تھا اور اسے اس بات کا علم نہیں تھا کہ جس گاڑی کے قریب وہ فائرنگ کر رہا ہے، اس میں وفاقی وزیر اطلاعات سوار ہیں۔ساجدہ تارڑ کے مطابق واقعے کے وقت عطا اللہ تارڑ کی گاڑی میں کوئی سکیورٹی گارڈ بھی موجود نہیں تھا، تاہم خوش قسمتی سے وہ اس واقعے میں محفوظ رہے۔ پولیس نے واقعے کی مزید تحقیقات شروع کر دی ہیں تاکہ فائرنگ کے اصل محرکات اور ملزم کے ارادوں کا مکمل تعین کیا جا سکے۔