کراچی میں ڈرگ ڈیلر انمول عرف پنکی کے تین مقدمات میں بریت کے فیصلے کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں اپیل دائر کردی گئی ہے۔
یہ اقدام پراسیکیوٹر جنرل سندھ کی ہدایت پر کیا گیا، جس میں عدالت کے تینوں فیصلوں کو کالعدم قرار دینے کی درخواست کی گئی ہے۔اپیل میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جنوبی کے تینوں فیصلے اصولوں کے خلاف ہیں۔ عدالت نے 13 اگست کو ملزمان پر فرد جرم عائد کی تھی، لیکن درخواست میں کہا گیا ہے کہ ملزمان نے صحت جرم سے انکار کیا، جس کے بعد عدالت نے گواہوں کو نوٹس جاری کیے۔ اسی روز عدالت نے پراسیکیوٹر کو بھی نوٹس جاری کیا، لیکن عدالت نے بغیر ملزمان اور پراسیکیوٹر کی موجودگی کے ہی بریت کی درخواستوں پر فیصلہ سنایا، جو کہ قانونی طور پر درست نہیں ہے۔
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ عدالت نے 13 اگست کی شام ہی یہ فیصلے سنائے، جبکہ پراسیکیوٹر کو کم از کم 24 گھنٹے کا وقت ملنا چاہیے تھا تاکہ وہ عدالت میں موجود رہ سکیں۔ اپیل میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا ہے کہ عدالت کے فیصلے جلد بازی میں کیے گئے، اس لیے سندھ ہائی کورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جنوبی کے تینوں فیصلوں کو کالعدم قرار دیا جائے۔