شہریوں نے پٹرول اور دیگر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں معمولی کمی پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے اور اسے حکومت کا مذاق قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ حکومتی سطح پر قیمتوں میں اضافہ روپوں میں ہوتا ہے، جبکہ کمی کی جائے تو چند پیسوں تک محدود رکھی جاتی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ چند پیسوں کی معمولی کمی سے عوام کے ماہانہ بجٹ پر کوئی خاطر خواہ فرق نہیں پڑے گا۔شہریوں کے مطابق، اب بھی پٹرول کی قیمت 342 روپے سے زائد فی لیٹر ہے، جو عام آدمی کی قوتِ خرید پر بھاری بوجھ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پٹرول کی قیمت میں اضافہ ہوتے ہی فوری طور پر ٹرانسپورٹ کے کرائے اور اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بڑھا دی جاتی ہیں، مگر معمولی کمی کے باوجود نہ تو کرایوں میں کمی ہوتی ہے اور نہ ہی مہنگائی پر کوئی خاص اثر پڑتا ہے۔
شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں خاطر خواہ کمی کی جائے تاکہ عوام کو حقیقی معنوں میں ریلیف مل سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت عوام کو بڑھتی ہوئی مہنگائی سے ریلیف دینے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اور محض چند پیسوں کی کمی کو ریلیف قرار دینا عوام کے مسائل کا حل نہیں ہے۔اس حوالے سے شہریوں کا کہنا ہے کہ حقیقی ریلیف اور عوامی مسائل کے حل کے لیے حکومت کو قیمتوں میں قابلِ ذکر کمی کرنی چاہیے تاکہ مہنگائی اور روزمرہ کی زندگی کی مشکلات میں کمی آئے۔