وفاقی کابینہ کی توانائی کمیٹی نے ایک اہم پالیسی فیصلے کی منظوری دی ہے جس کے تحت گھریلو صارفین کے لیے ایل این جی (ایلن جی) پر مبنی گیس کنکشن فراہم کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔
یہ اقدام حکومت کی جانب سے ایک نئی ہاؤسنگ اسکیم اور پسماندہ بستیوں میں رہنے والے خاندانوں کے لیے بہت اہم ہے، خاص طور پر ان کے لیے جو موجودہ گھریلو گیس کے حل سے محروم ہیں یا جنہیں قدرتی گیس کی سہولت میسر نہیں ہے۔اس پالیسی کے تحت سوئی نادرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ اور سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ کو اجازت دی گئی ہے کہ وہ گھریلو صارفین کو ایل این جی پر مبنی کنکشن فراہم کریں۔ اس اقدام کا مقصد گھریلو صارفین کو سستی اور معیاری گیس کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں قدرتی گیس کی فراہمی محدود یا غیر موجود ہے۔وفاقی وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت یہ اجلاس ہوا، جس میں توانائی کے شعبے سے متعلق اہم پالیسی تبدیلیوں پر غور کیا گیا۔
اس فیصلے سے پسماندہ اور کم ترقی یافتہ علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو گیس کی سہولت فراہم کرنے کا ایک نیا روٹ کھلے گا، جس سے ان کے روزمرہ کے زندگی کے معیار میں بہتری آنے کا امکان ہے۔مزید برآں، یہ اقدام ملکی توانائی کے شعبے میں متوازن ترقی اور کفایت شعاری کو فروغ دینے کے لیے بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ ایل این جی کا استعمال روایتی گیس کے مقابلے میں زیادہ قابلِ تجدید اور ماحول دوست سمجھا جاتا ہے۔ حکومت کی یہ پالیسی تبدیلی مستقبل میں توانائی کے شعبے میں خودکفالت اور استحکام لانے کے لئے ایک اہم قدم تصور کی جا رہی ہے۔