نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے نیٹ میٹرنگ کو محدود کرنے کے لئے پروسومر ریگولیشنز 2025 کا مسودہ جاری کیا ہے۔
اس مسودے کے تحت، نیٹ میٹرڈ سولر پاور صارفین کے سائز، مدت اور ادائیگی کی شرح میں تقریباً نصف کمی کی تجویز دی گئی ہے۔حکام کے مطابق، اگر یہ ضوابط منظور ہوگئے، تو 2015 کے نیٹ میٹرنگ اور قابلِ تجدید توانائی کی تقسیم شدہ پیداوار کے قوانین کو منسوخ کر دیا جائے گا اور نئے ضوابط کے مطابق، صارفین کی طرف سے نئے معاہدوں کی مدت کو سات سال سے کم کرکے پانچ سال کیا جائے گا۔ مزید برآں، نئے قواعد کے تحت، صارفین اپنے اصل منظور شدہ لوڈ سے زیادہ صلاحیت کا سولر نیٹ میٹرنگ سسٹم نصب نہیں کر سکیں گے۔مسودے کے مطابق، دس کلو واٹ کا صارف صرف 10 کلو واٹ تک کا سولر نیٹ میٹرنگ سسٹم نصب کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، نیٹ میٹرنگ صارفین کو اوسط قومی انرجی پرچیز قیمت پر ادائیگی کی جائے گی، جو فی یونٹ 13 روپے تک کم ہو جائے گی، جبکہ موجودہ ادائیگی 26 روپے فی یونٹ ہے۔
اس کے علاوہ، ڈسکوز زیادہ نیٹ میٹرنگ والے فیڈرز پر مزید درخواستوں کو مسترد کر سکتے ہیں۔ حکام کے مطابق، پروسومرز وہ صارفین ہیں جو بیک وقت سولر بجلی پیدا بھی کرتے ہیں اور استعمال بھی، اور اس وقت سولر نیٹ میٹرنگ کی صلاحیت 6 ہزار میگاواٹ ہے، جو کہ آف گرڈ سولر شامل کرنے سے بڑھ کر 13 ہزار میگاواٹ ہو سکتی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے شمسی توانائی کی صلاحیت میں 50 فیصد کمی واقع ہو جائے گی، اور یہ قدم مہنگے پاور یوٹیلیٹی کاروبار کو نقصان سے بچانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ نیپرا نے 30 دن کے اندر تجاویز طلب کی ہیں تاکہ نئے ضوابط کا حتمی فیصلہ کیا جا سکے۔