کراچی میں بڑھتے ہوئے اسٹریٹ کرائمز کے حوالے سے معروف فیشن ڈیزائنر دیپک پروانی کے حالیہ انکشافات نے شہریوں میں تشویش مزید بڑھا دی ہے۔
دیپک پروانی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر اپنے بیان میں بتایا ہے کہ وہ صرف تین ماہ کے مختصر عرصے میں شہر قائد میں تین بار ڈکیتی کی وارداتوں کا نشانہ بن چکے ہیں۔ ان کے مطابق مختلف مواقع پر مسلح افراد نے ان سے گاڑی، موٹر سائیکل اور نقد رقم چھین کر فرار ہو گئے، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ شہر میں جرائم کی صورتحال تیزی سے بگڑ رہی ہے۔انہوں نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ یہ مسئلہ صرف انفرادی نہیں بلکہ کراچی میں مجموعی طور پر بڑھتی ہوئی بدامنی کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کے مطابق ان کے اسٹاف کے افراد بھی مسلسل جرائم کا شکار ہو رہے ہیں۔ ایک ملازم کے گھر میں ایک ماہ کے دوران دو مرتبہ چوری ہوئی، جبکہ ایک اور ملازم کے بیٹے کو مبینہ طور پر بھتہ نہ دینے پر تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔دیپک پروانی نے شہر میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، بدامنی اور شہری مشکلات پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ کراچی میں حالات اس حد تک خراب ہو چکے ہیں کہ شہری نہ صرف مالی نقصان بلکہ جانی خطرات سے بھی دوچار ہیں۔
ان کے بیان کے بعد سوشل میڈیا پر عوامی ردعمل بھی سامنے آیا ہے، جہاں بڑی تعداد میں صارفین نے کراچی میں امن و امان کی صورتحال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے خطرناک قرار دیا ہے۔ کئی افراد نے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے فوری اور مؤثر کارروائی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔دیپک پروانی پاکستان کی فیشن انڈسٹری کا ایک معروف نام ہیں، جنہیں متعدد قومی و بین الاقوامی اعزازات حاصل ہیں اور وہ ایک منفرد عالمی ریکارڈ بھی رکھتے ہیں۔ تاہم ان جیسے نمایاں شخصیت کا بار بار جرائم کا نشانہ بننا کراچی میں سیکیورٹی چیلنجز کو مزید نمایاں کر رہا ہے۔