یورپی یونین پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر ‘ برآمدات کا سب سے زیادہ حجم ہماری منزل ہے‘حکومت تجارتی و سرمایہ کاری تعلقات کو فروغ دینے کیلئے کوششیں جاری رکھے گی:وزیراعظم

غیر ملکی سرمایہ کاروں کو تمام ضروری سہولتیں دینگے شہبازشریف
سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے ریگولیٹری تعمیل پر عملدرآمد کو مزید آسان  بنایا جائے‘حکومت اور سرمایہ کاروں کے درمیان رابطوں کو مضبوط‘لائسنسنگ اور دیگر سروسز تک رسائی کے  نظام کی ڈیجیٹائزیشن کی رفتار تیز کی جائے:اجلاس میں ہدایات
پاکستان‘نیوزی لینڈ وزرائے اعظم کا ٹیلیفونک رابطہ‘ دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کیلئے ملکر کام کرنے پر اتفاق‘نیوزی لینڈ کے وزیر اعظم نے پاکستان کی تعمیری سفارتی کاوشوں کوسراہا ‘ثالثی کی کوششوں کی کامیابی کیلئے نیک تمناؤں کا اظہار
اسلام آباد(آن لائن)وزیراعظم محمد شہبازشریف نے کہا ہے  برآمدات بڑھانے کے لیے  ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو تمام ضروری سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے اورہدایت کی ہے کہ  سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے ریگولیٹری تعمیل پر عملدرآمد کو مزید آسان اور کم خرچ بنایا ‘حکومت اور سرمایہ کاروں کے درمیان رابطوں کو مضبوط کیا اورلائسنسنگ اور دیگر سروسز تک رسائی کے سارے نظام کی ڈیجیٹائزیشن کی رفتار تیز کی جائے۔اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ صوبوں کی مشاورت سے سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے بزنس-ریڈی ایکشن پلان تیار کیا جا رہا ہے۔وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ملک میں سرمایہ کاری کے فروغ پر جائزہ اجلاس ہوا۔ وزیراعظم شہبازشریف نے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ ملک میں اقتصادی ترقی کیلئے سرمایہ کاری کا فروغ حکومت کی اولین ترجیح ہے ‘ برآمدات بڑھانے کے لیے  ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو تمام ضروری سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔وزیراعظم نے ہدایت کی کہ سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے ریگولیٹری تعمیل پر عملدرآمد کو مزید آسان اور کم خرچ بنایا جائے‘ حکومت اور سرمایہ کاروں کے درمیان رابطوں کو مضبوط کیا جائے، لائسنسنگ اور دیگر سروسز تک رسائی کے سارے نظام کی ڈیجیٹائزیشن کی رفتار تیز کی جائے۔ وزیراعظم نے کہا کہ خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کے قیام سے ملک میں سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔دریں اثناء  شہبازشریف نے کہا ہے  یورپی یونین پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر ہے اور پاکستان سے برآمدات کا سب سے زیادہ حجم ہماری منزل ہے‘حکومت یورپی یونین کے ساتھ تجارتی اور سرمایہ کاری کے تعلقات کو فروغ دینے کے لیے سنجیدہ کوششیں جاری رکھے گی۔وزیراعظم محمد شہبازشریف سے یورپی یونین کے سینئر حکام اور ممتاز یورپی کمپنیوں کے کاروباری نمائندوں کے وفد نے منگل کی صبح وزیراعظم ہاؤس میں ملاقات کی۔ وفد کی قیادت یورپی کمیشن کے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف انٹرنیشنل پارٹنرشپس کے ڈائریکٹر (ایشیا پیسفک) مسٹر پیٹرس اسٹبس کررہے تھے.۔وزیراعظم نے یورپی یونین کے وفد کا پاکستان میں خیرمقدم کیا اور یورپی یونین پاکستان بزنس فورم میں شرکت پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ یورپی یونین پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر ہے اور پاکستان سے برآمدات کا سب سے زیادہ حجم ہماری منزل ہے۔ یورپی یونین پاکستان بزنس فورم کے انعقاد کو سراہتے ہوئے وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ یہ تقریب پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تجارتی اور سرمایہ کاری کے تعلقات کو مزید فروغ دینے کی حوصلہ افزائی کرے گی۔ انہوں نے یورپی یونین کے وفد کو یقین دلایا کہ حکومت یورپی یونین کے ساتھ تجارتی اور سرمایہ کاری کے تعلقات کو فروغ دینے کے لیے سنجیدہ کوششیں جاری رکھے گی۔علاوہ ازیں پاکستان اور نیوزی لینڈ کے وزرائے اعظم نے ٹیلی فونک رابطے میں دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیاہے۔ نیوزی لینڈ کے وزیر اعظم نے پاکستان کی تعمیری سفارتی کاوشوں کوسراہا اورثالثی کی ان کوششوں کی کامیابی کیلئے نیک تمناؤں کا اظہار کیا جبکہ شہباز شریف نے شکریہ ادا کرتے ہوئے خطے اور دنیا میں امن، مکالمے اور استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔وزیراعظم کو منگل کی دوپہر وزیراعظم نیوزی لینڈ رائٹ آنریبل کرسٹوفر لکسان کی جانب سے ٹیلیفون کال موصول ہوئی۔دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی خوشگوار اور دوستانہ گفتگو کے دوران مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم نے کرسٹوفر لکسان کو خطے میں امن کے فروغ اور کشیدگی میں کمی کے لیے پاکستان کی جاری سفارتی کوششوں اور روابط سے آگاہ کیا۔ نیوزی لینڈ کے وزیر اعظم نے پاکستان کی تعمیری سفارتی کاوشوں، خصوصاً واشنگٹن اور تہران کے ساتھ رابطوں کو سراہا اور ثالثی کی ان کوششوں کی کامیابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔وزیراعظم نے کرسٹوفر لکسان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے خطے اور دنیا میں امن، مکالمے اور استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا اور دونوں ممالک کے مابین دوستانہ اور خوشگوار تعلقات پر اطمینان کا اظہار کیا