مہاتیر محمد کی اہلیہ سیتی حسمہ 100 برس کی عمر میں انتقال کرگئیں

مہاتیر محمد کی اہلیہ سیتی حسمہ 100 برس کی عمر میں انتقال کرگئیں

ملائیشیا کے سابق وزیراعظم مہاتیر محمد کی اہلیہ اور معروف سماجی شخصیت سیتی حسمہ محمد علی 100 برس کی عمر میں انتقال کرگئیں۔

 ان کے انتقال کی تصدیق پیر کو مہاتیر محمد کے دفتر اور ان کے بیٹے مخزانی مہاتیر نے کی۔برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق سیتی حسمہ نے کوالالمپور کے نیشنل ہارٹ انسٹی ٹیوٹ (IJN) میں آخری سانس لی۔ فوری طور پر ان کی موت کی وجہ سامنے نہیں آسکی۔سیتی حسمہ اور مہاتیر محمد کی ملاقات 1940 کی دہائی کے اواخر میں سنگاپور میں میڈیکل کی تعلیم کے دوران ہوئی تھی۔ دونوں نے رواں برس اگست میں اپنی شادی کی 70ویں سالگرہ منائی تھی۔ ان کے سات بچے ہیں، جن میں مخزانی مہاتیر، سماجی کارکن مرینا مہاتیر اور سیاست دان مختارز مہاتیر شامل ہیں۔سیتی حسمہ ملائیشیا میں صحت عامہ، خاندانی منصوبہ بندی اور سماجی بہبود کے شعبوں میں اپنی خدمات کے باعث معروف تھیں۔ انہیں عوامی سطح پر سادہ مزاج اور خوش اخلاق شخصیت کے طور پر جانا جاتا تھا۔مہاتیر محمد ماضی میں اپنی سیاسی اور ذاتی زندگی میں سیتی حسمہ کے کردار کو اہم قرار دے چکے ہیں۔

انہوں نے خاص طور پر اس دور میں ان کی تعلیمی کامیابی کو سراہا تھا جب ملائیشیا کی ملائی خواتین کے لیے اعلیٰ تعلیم کا حصول عام نہیں تھا۔مہاتیر محمد کا پہلا دورِ وزارتِ عظمیٰ 1981 سے 2003 تک جاری رہا۔ وہ 2018 میں دوبارہ وزیراعظم بنے اور اس وقت دنیا کے معمر ترین سربراہِ حکومت قرار پائے۔ تاہم ان کی دوسری وزارتِ عظمیٰ 2020 میں سیاسی اتحاد میں اختلافات کے باعث ختم ہوگئی۔سیتی حسمہ کی وفات کے بعد ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم سمیت دیگر اہم شخصیات نے مہاتیر محمد اور ان کے خاندان سے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ ملائیشین حکومت نے سیتی حسمہ کی سرکاری اعزاز کے ساتھ تدفین کا بھی اعلان کیا ہے۔