مہاتیر محمد نے ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کو 'جبری حل' قرار دے دیا

مہاتیر محمد نے ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کو 'جبری حل' قرار دے دیا

ملائشیا کے سابق وزیرِاعظم مہاتیر محمد نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیش کردہ 20 نکاتی غزہ امن منصوبے کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے “جبری حل” اور حماس کے لیے دھمکی قرار دیا ہے۔

ان کی تنقید میں منصوبے کے خدوخال کے بارے میں جو آٹھ نکات شامل تھے، انہیں ہم نے پس منظر، منصو بہ کے اہم نکات اور بین الاقوامی ردِعمل کے ساتھ ذیل میں تفصیل سے مرتب کیا ہے۔

ٹرمپ کا منصوبہ 
ٹرمپ کا 20 نکاتی پلان فوری جنگ بندی، یرغمالیوں کے تبادلے، مرحلہ وار اسرائیلی فوج کی واپسی، حماس کی غیر مسلح کاری اور ایک بین الاقوامی عبوری گورننس بورڈ کے قیام جیسے عناصر پر مشتمل بتایا گیا ہے۔ اس منصوبے میں غزہ کی بحالی اور "نیو غزہ" جیسی اصطلاحات بھی آتی ہیں، مگر کئی نکتہ جات میں تفصیل یا عمل درآمد کا طریقہ کار واضح نہیں۔ بین الاقوامی سطح پر ردِعمل ملا جلا رہا — کچھ ممالک نے اسے امن کا موقع کہا تو بعض نے اس پر تحفظات ظاہر کیے۔

مہاتیر کے 8 نکات 
1-مہاتیر کے مطابق ٹرمپ کی تجاویز حماس کے خلاف ایک سفارتکاری پیشکش نہیں بلکہ ایک جبری حل ہیں — یعنی اس میں حماس کو رضامندی کے بجائے قبول کرنے کے لیے دباؤ شامل ہے۔
2-انہوں نے کہا کہ منصوبہ واضح طور پر دھمکی جیسا ہے — مخصوص مدت میں قبول نہ کیا تو نتائج سنگین ہونگے۔ 
3-مہاتیر نے نشاندہی کی کہ منصوبے میں حماس کو چند دنوں — رپورٹس میں چار روز — کے اندر پذِیرائی کی شرط دی گئی ہے، جو ناممکن اور غیر منصفانہ ہے۔ اس طرح کی تنگ ٹائم لائن حقیقی مذاکرات کا متبادل نہیں بن سکتی۔ 
4-انہوں نے الزام لگایا کہ یہ منصوبہ اسرائیلی مفادات کے مطابق ڈیزائن کیا گیا — مہاتیر کا کہنا تھا کہ ٹرمپ نے نیتن یاہو کے ساتھ مل کر منصوبہ تیار کیا، اس لیے یہ اسرائیل کے لیے قابلِ قبول ہے۔ (عالمی مباحثے میں اسی نکتے پر بحث جاری ہے کہ امریکہ نے کون سی تبدیلیاں کیں جو ابتدائی تجاویز سے مختلف ہیں)۔
5-مہاتیر نے استدلال کیا کہ ٹرمپ اور نیتن یاہو کا مقصد، عملی طور پر، غزہ پر کنٹرول حاصل کرنا ہے — نتیجتاً فلسطینیوں کو اس حل کے تحت ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہونا پڑے گا۔ 
6-وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ منصوبہ موجودہ تباہی اور انسانی جانی نقصان کو پس پشت ڈال کر اُن قربانیوں کو "رائیگاں" کرنے کی کوشش ہے — یعنی ماضی میں جو جانی نقصان ہو چکا، اسے تسلیم شدہ نتیجہ سمجھ لیا جائے گا جبکہ قوتِ عمل ایک طرف رکھ دی جائے گی۔
7-مہاتیر نے ٹرمپ کو امن بنانے والا قرار دینے سے انکار کیا اور کہا کہ ٹرمپ اکثر سخت پالیسی (ہائی ٹیرف، پابندیاں، دھمکیاں) استعمال کرتے ہیں اور وہ اس میں کامیاب نہیں رہے؛ اس بنیاد پر انہوں نے کہا کہ اس منصوبے سے بھی تنازع مکمل طور پر ختم ہونے کی ضمانت نہیں۔ عالمی سطح پر بھی تجزیہ کار اس منصوبے کی طویل مدتی پائیداری پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ 

8-آخر میں مہاتیر نے کہا کہ اگر حماس منصوبہ مسترد کرے تو وہ نسل کشی یا جارحیت کے مزید بڑھنے کی توقع رکھتے ہیں، خاص طور پر اگر امریکی مدد شامل رہے۔ اسی خدشے کا اظہار بعض دیگر عالمی مبصرین نے بھی کیا ہے کہ جبری یا نامکمل حل خطرات بڑھا سکتے ہیں۔ 
بین الاقوامی ردِعمل 
مصر، ترکی اور قطر جیسی ریاستیں حماس کو قائل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں کہ وہ منصوبے پر بات کریں؛ مصر نے کھلے لفظوں میں کہا کہ وہ اس معاملے میں ثالثی کر رہے ہیں۔ اسی طرح بعض یورپی رہنما پلان کو ایک موقع کہہ رہے ہیں جبکہ دوسرے اس کی خامی اور تیاری نہ ہونے کی نشان دہی کر رہے ہیں۔حماس کے بعض عہدیداروں نے ابتدائی طور پر منصوبے کی مخالفت یا احتیاطی رویہ رکھا — وہ کہتے ہیں کہ اگر شرطیں ناقابلِ قبول ہوں تو قبول کرنا ممکن نہیں۔