وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس کے بارے میں ہے جس میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کی نشاندہی اور ان کے خلاف کارروائی کے لیے متعدد سخت اقدامات کی منظوری دی گئی ہے۔
مساجد میں اعلانات: غیر قانونی مقیم افغان باشندوں کی نشاندہی کے لیے مساجد میں اعلانات کرانے کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ عوام سے مدد لی جا سکے۔
کرائے پر دینے والی رپورٹیں: گھر، دکان، فیکٹری، ہوٹل، پٹرول پمپ وغیرہ کرائے پر دینے کی روزانہ رپورٹ طلب کی گئی تاکہ غیر قانونی مقیم افراد کی معلومات حاصل کی جا سکیں۔
رپورٹنگ ذمہ داری: پٹواری، نمبردار، اور متعلقہ ایس ایچ اوز کو غیر ملکیوں کو دی جانے والی پراپرٹی کی رپورٹ کرنے کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔ تمام اضلاع میں فیلڈ سروے کروانے پر اتفاق ہوا۔
قانونی کارروائی: وزٹ ویزہ یا غیر قانونی داخلے کے ذریعے پاکستان میں آنے والے غیر ملکیوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ غیر قانونی طور پر ملازمت کرنے والے افغان باشندوں کو بھی قانون کے تحت کارروائی کا سامنا کرنا ہو گا۔
جدید شناختی ٹیکنالوجی: اجلاس میں بتایا گیا کہ چہرے سے شناخت کی جدید ترین ٹیکنالوجی استعمال کی جا رہی ہے تاکہ افغان باشندوں کی نشاندہی کی جا سکے۔
قانونی اور عملی اقدامات: خانیوال میں غیر قانونی مقیم افغان باشندوں کو پراپرٹی کرائے پر دینے پر 5 مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ صوبہ بھر میں 45 ہولڈنگ سینٹرز قائم کیے گئے ہیں۔ غیر قانونی افغان شہریوں کو قیام، طعام، اور طورخم بارڈر تک ٹرانسپورٹ فراہم کی جا رہی ہے۔یہ اقدامات غیر قانونی رہائش اور ملازمتوں کے خلاف سخت کارروائی کے ذریعے صوبے میں امن و امان قائم کرنے کی کوشش ہے۔