حالیہ ہفتے کے دوران مہنگائی میں 0.73 فیصد اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں سالانہ بنیاد پر مہنگائی کی شرح 4.32 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔
اس ہفتے کے دوران 14 ضروری اشیاء مہنگی ہوئیں، جبکہ 12 اشیاء کے نرخوں میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ اسی طرح، 25 اشیاء کی قیمتوں میں استحکام رہا ہے۔وفاقی ادارہ شماریات کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق، سبزیوں میں ٹماٹر 28 فیصد، پیاز 10 فیصد اور آلو 4.58 فیصد سستے ہوئے۔ اس کے علاوہ نمک، دال چنا، لہسن، انڈے اور آٹا بھی سستی ہونے والی اشیاء میں شامل ہیں۔ دوسری جانب، دال مونگ، گھی، کوکنگ آئل اور خشک دودھ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ چینی، گڑ، بیف، بجلی، ایل پی جی، سگریٹ اور لکڑی بھی مہنگی ہوئی ہیں۔ مختلف شہروں میں چینی کی قیمت 179 سے 220 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے۔ اسی طرح، چھوٹے طبقے کے لیے بجلی کے ٹیرف میں 11 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حساس قیمتوں کے لحاظ سے، مختلف آمدنی کے طبقوں پر مہنگائی کا اثر مختلف ہے۔ 17,732 روپے ماہانہ آمدنی رکھنے والے افراد کے لیے مہنگائی کی رفتار 3.85 فیصد، 17,733 سے 22,888 روپے ماہانہ آمدنی والے لوگوں کے لیے یہ 4.70 فیصد، اور 22,889 سے 29,517 روپے ماہانہ آمدنی والے طبقے کے لیے 4.60 فیصد رہی۔ اسی طرح، 29,518 سے 44,175 روپے ماہانہ آمدنی والے افراد کے لیے مہنگائی کی رفتار 4.40 فیصد اور 44,176 روپے سے زائد آمدنی والے افراد کے لیے 3.79 فیصد تک رہی ہے۔