اسلام آباد ہائی کورٹ میں پی ٹی آئی رہنما اعظم سواتی کی مقدمات کی تفصیلات فراہم کرنے کے کیس میں سماعت ہوئی۔
کیس کی سماعت جسٹس ارباب محمد طاہر کی زیر صدارت کی گئی، جس دوران اسلام آباد پولیس نے انکوائری رپورٹ عدالت میں جمع کرائی۔ رپورٹ میں پولیس کے اے ایس آئی ظفر اقبال کو غلط رپورٹ عدالت کے ریکارڈ کا حصہ بنانے پر شوکاز نوٹس جاری کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔رپورٹ کے مطابق، اسلام آباد پولیس کے اے ایس آئی ظفر اقبال کی غیر ذمہ داری کی وجہ سے معاملہ سامنے آیا۔ انکوائری کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ ضروری ریکارڈ مکمل طور پر جمع نہیں کیا گیا، جس پر خصوصی انکوائری کی گئی اور پولیس کے مختلف تھانوں کے محرر کے بیانات قلمبند کیے گئے۔
اس انکوائری کے نتیجے میں اے ایس آئی ظفر اقبال کو ذمے دار ٹھہرایا گیا اور ان کے خلاف محکمانہ کارروائی کی گئی، جس کے نتیجے میں ان کی دو سال کی نوکری ضبط کرلی گئی۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ کیس سے متعلق رپورٹس ایک اہلکار عمران کے پاس تھیں، جو ڈینگی کی وجہ سے جاں بحق ہو گئے تھے، جس کی وجہ سے کیس کی تفصیلات کا صحیح طور پر اندراج نہیں ہو سکا۔دورانِ سماعت، اعظم سواتی کے وکیل سہیل خان عدالت میں پیش ہوئے اور کیس کی مزید سماعت جنوری تک ملتوی کردی گئی۔