پی ٹی آئی کے سینئر رہنما اعظم سواتی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان سے میری ملاقات کے حوالے سے بہت ساری متنازع باتیں ہو رہی ہیں، اور آج میں اس پر تفصیلی بات کروں گا۔
اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ کورٹ میں پیشی کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج دوبارہ عدالت میں پیش ہوا ہوں، اور یہ جعلی اور جھوٹے کیسز ہیں جن کی حقیقت کھل کر سامنے آ چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدالتوں کے وقار کو برباد کیا جا رہا ہے، اور اس وقت جمہوریت، آئین اور قانون کا کوئی وجود نہیں رہا۔ وہ فیصلہ سازوں سے کہتے ہیں کہ جھوٹے مقدمات اور تشدد کے ذریعے پاکستان ترقی نہیں کر سکتا۔اعظم سواتی نے مزید کہا کہ پاکستان صرف اس صورت میں ترقی کرے گا جب اقتدار میں بیٹھے قومی مجرم جیلوں میں ہوں گے۔
انہوں نے قوم سے کہا کہ ہمیں دوریوں کو ختم کرنا ہوگا اور ظلم کے خاتمے کے لیے کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے اپنے وکلاء کا بھی شکریہ ادا کیا، جو ہر عدالت میں بغیر معاوضے کے ان کی حمایت کرتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ وکلاء آئین اور حق کے لئے کھڑے ہوئے ہیں، اور آج وہ بانی پی ٹی آئی سے اپنی ملاقات کے حوالے سے تفصیل سے بات کریں گے۔اعظم سواتی نے وزیراعظم کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ وزیراعظم نہیں، بلکہ ٹاؤٹ ہیں، اور فارم 47 والے ٹاؤٹ ملک و قوم کے نمائندے نہیں ہیں۔