ویب ڈیسک:وزیرِاعظم پاکستان شہباز شریف نے ایران کے اہم دورے کے بعد منگل کو آذربائیجان کے شہر لاچین پہنچ کر وہاں آذربائیجان کے وزیر خارجہ جے ہن بایراموف، پاکستان کے سفیر قاسم معین الدین اور دیگر اعلیٰ سفارتی حکام کی جانب سے پرتپاک استقبال کیا گیا۔
وزیرِاعظم شہباز شریف آج آذربائیجان میں ایک مصروف دن گزاریں گے، جس میں وہ پاکستان، ترکی اور آذربائیجان کے درمیان سہ فریقی اجلاس میں شرکت کریں گے۔ اس اجلاس میں تینوں ممالک کے مابین اقتصادی، دفاعی اور تزویراتی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال ہوگا۔ وزیرِاعظم اجلاس سے خطاب بھی کریں گے اور پاکستان کے نقطہ نظر کو اجاگر کریں گے۔ذرائع کے مطابق لاچین میں نئے ایئرپورٹ کی افتتاحی تقریب بھی منعقد کی جائے گی جس میں ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان، آذربائیجان کے صدر الہام علیوف اور وزیرِاعظم پاکستان شرکت کریں گے۔دفترِ خارجہ کے بیان کے مطابق وزیرِاعظم اپنے اس دورے کے دوران پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے اعلیٰ سطحی ملاقاتیں کریں گے۔ علاقائی اور عالمی امور بشمول حالیہ تنازعات، تجارت، توانائی کے شعبے میں تعاون اور سلامتی کے مسائل بھی زیر بحث آئیں گے۔ذرائع نے بتایا کہ وزیرِاعظم شہباز شریف اپنے خطاب میں پاکستان کے موقف کو واضح انداز میں پیش کریں گے اور خطے میں امن کے لیے پاکستان کی کوششوں کو اجاگر کریں گے۔ بدھ کو وہ آذربائیجان سے تاجکستان روانہ ہوں گے جہاں تاجک صدر کی دعوت پر عالمی گلیشیئرز کانفرنس میں شرکت کریں گے۔
اس سے قبل تہران میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہای سے ملاقات کے دوران وزیرِاعظم نے علاقائی سلامتی، پاکستان و بھارت کشیدگی، اور اسٹریٹجک تعاون کو مزید بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا۔ شہباز شریف نے ایران کا شکریہ ادا کیا کہ بحران کے دوران پاکستان کے ساتھ کھڑا رہا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ خطے میں امن، ترقی اور خوشحالی کا خواہاں رہا ہے۔وزیرِاعظم نے ایران کے ساتھ تعلقات کو مضبوط کرنے کا عزم ظاہر کیا اور کہا کہ موجودہ جیوپولیٹیکل صورتحال میں دونوں ممالک کے درمیان ہم آہنگی وقت کی ضرورت ہے۔یہ دورہ نہ صرف پاکستان کی خارجہ پالیسی کے متحرک رویے کی عکاسی کرتا ہے بلکہ خطے میں پرامن، متوازن اور تعاون پر مبنی تعلقات کی اہمیت کو بھی اجاگر کرتا ہے۔