آئی ایم ایف سے مذاکرات: حکومت کا پٹرولیم لیوی سے ریکارڈ ریونیو حاصل کرنے کا منصوبہ

آئی ایم ایف سے مذاکرات: حکومت کا پٹرولیم لیوی سے ریکارڈ ریونیو حاصل کرنے کا منصوبہ

اسلام آباد: حکومت کی جانب سے مالی سال 2025-26 کے بجٹ میں پٹرولیم لیوی کی مد میں ریکارڈ اضافی وصولیوں کا ہدف طے کیا گیا ہے جس کے باعث ملک میں مہنگائی میں ایک اور بڑا اضافہ ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

 ذرائع کے مطابق حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں پٹرولیم لیوی سے 1 ہزار 311 ارب روپے کی وصولی کا تخمینہ پیش کیا ہے، جو موجودہ مالی سال کے ہدف 1 ہزار 117 ارب روپے سے 194 ارب روپے زائد ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ پٹرولیم لیوی میں اس نوعیت کا اضافہ نہ صرف تیل کی قیمتوں میں اضافہ کرے گا بلکہ اس کے اثرات عام صارفین کی زندگیوں پر بھی پڑیں گے، کیونکہ اس سے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بھی اضافہ متوقع ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے ٹرانسپورٹیشن کے اخراجات بڑھ جائیں گے، جس کے نتیجے میں ہر شعبہ زندگی مہنگا ہو جائے گا۔

حکومت کا یہ اقدام مالی معاملات کو مستحکم کرنے اور آئی ایم ایف کے شرائط پوری کرنے کے لیے ضروری قرار دیا جا رہا ہے، تاہم عام آدمی پر اس کے منفی اثرات پر تشویش پائی جاتی ہے۔ پٹرولیم لیوی میں اضافے کا یہ سلسلہ مہنگائی میں اضافے کی ایک بڑی وجہ سمجھا جا رہا ہے، جس سے ملک کی معیشت پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔حکومت نے ابھی تک اس بارے میں عوام کو تفصیلی بریفنگ نہیں دی ہے، لیکن توقع کی جا رہی ہے کہ بجٹ کے اعلان کے بعد مزید وضاحتیں سامنے آئیں گی۔