اسلام آباد: حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان جاری معاشی مذاکرات میں اہم فیصلے سامنے آگئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے پاکستان کو پاور سیکٹر کا گردشی قرض ختم کرنے کے لیے 2031 کی ڈیڈ لائن دے دی ہے، جس کے تحت ہر سال گردشی قرض کا بہاؤ زیرو رکھنے کی شرط عائد کی گئی ہے۔حکومت نے کیپٹو پاور پلانٹس پر ٹرانزیشن لیوی بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ رواں مالی سال ان پر 10 فیصد لیوی نافذ کی جائے گی، جبکہ جنوری 2026 سے یہ شرح 15 فیصد کر دی جائے گی۔ صرف آف گرڈ کیپٹو پاور پلانٹس سے رواں مالی سال 105 ارب روپے آمدن متوقع ہے۔
سیلاب سے نقصانات
حکومتی بریفنگ میں بتایا گیا کہ حالیہ سیلاب سے ملکی معیشت کو 370 ارب روپے نقصان پہنچا۔ ملک بھر میں 1006 افراد جاں بحق، 1063 زخمی، 12 ہزار 569 مکانات، 2130 کلومیٹر سڑکیں اور 248 پل تباہ ہوئے۔ اسی طرح 866 پانی کی سہولیات، 1098 تعلیمی ادارے اور 128 صحت مراکز متاثر ہوئے۔زرعی شعبے کو 155 ارب روپے کا نقصان ہوا، جس میں سے اہم فصلوں کو 87 ارب روپے کا نقصان پہنچا۔ سیلاب سے 3.26 ملین ایکڑ زرعی رقبہ متاثر ہوا اور 11 ہزار مویشی ہلاک ہوئے۔
معاشی اعشاریے
حکومت نے آئی ایم ایف وفد کو بتایا کہ رواں مالی سال معاشی شرح نمو 3.9 فیصد رہنے کا امکان ہے جبکہ 26 ارب ڈالر بیرونی فنانسنگ کی ضرورت ہوگی۔ پاکستان نے ستمبر 2025 میں 500 ملین ڈالر کی ادائیگی کر دی ہے جبکہ اپریل 2026 میں 1 ارب ڈالر یوروبانڈ واجب الادا ہے۔ حکومت مالی سال 26-2025 کی آخری سہ ماہی میں نئے یوروبانڈز کے اجرا پر غور کر رہی ہے۔