ایف بی آر نے ریونیو شارٹ فال پورا کرنے کا پلان آئی ایم ایف سے شیئر کر دیا

ایف بی آر نے ریونیو شارٹ فال پورا کرنے کا پلان آئی ایم ایف سے شیئر کر دیا

اسلام آباد:
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ملک میں ریونیو شارٹ فال کو پورا کرنے کے لیے اپنا پلان انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ شیئر کر دیا ہے۔

پلان کی تفصیلات:
پورٹ پر کنٹینرز کلیئرنس:
کنٹینرز کی تیز رفتار کلیئرنس کے لیے اقدامات کیے جائیں گے تاکہ تجارت میں رکاوٹیں کم ہوں اور ٹیکس وصولی بڑھائی جا سکے۔
اسمگل شدہ سامان کی نیلامی:
ضبط شدہ اسمگل شدہ سامان کو فوری نیلام کر کے اضافی ریونیو حاصل کیا جائے گا۔
انفورسمنٹ کی صلاحیت میں بہتری:
ایف بی آر کی انفورسمنٹ صلاحیت کو مزید مضبوط کیا جائے گا تاکہ انڈر انوائسنگ اور ٹیکس چوری کے خلاف کارروائی کی جا سکے۔
انڈر ٹیکس سیکٹر پر فوکس:
ٹیکس نیٹ سے باہر رہنے والے شعبوں سے ٹیکس وصولی کو یقینی بنایا جائے گا۔
عدالتی کیسز کی کلیئرنس:
عدالتوں میں زیر التوا ٹیکس کیسز کو جلد از جلد نمٹانے کے لیے خصوصی اقدامات کیے جائیں گے۔
ٹیکس ہدف:
جنوری کے دوران ہدف:
ایف بی آر کو جنوری میں تقریباً 960 ارب روپے کا ہدف پورا کرنا ہے۔اضافی 385 ارب روپے کے شارٹ فال کے ساتھ مجموعی ہدف 1,340 ارب روپے ہو گیا ہے۔
آئی ایم ایف وفد کی آمد سے قبل پیشرفت:
ایف بی آر نے اعلان کیا ہے کہ آئی ایم ایف وفد کی آمد سے قبل تمام اقدامات پر کام مکمل کر لیا جائے گا۔

حکومتی عزم:
ایف بی آر کے مطابق رواں ماہ کا ٹیکس ہدف حاصل کرنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جائیں گے۔یہ پلان نہ صرف ریونیو شارٹ فال کو پورا کرنے میں مدد دے گا بلکہ آئی ایم ایف کو پاکستان کے مالیاتی نظام میں بہتری کی یقین دہانی بھی کرائے گا۔