کاربن لیوی، پانی کی قیمتوں اور آٹوموبائل پروٹیکشن ازم سمیت دیگر بڑے اقدامات پر عمل درآمد یکم جولائی سے متوقع ہے‘ نئے پیکیج کے معیشت پر اثرات،مہنگائی‘ خوراک کی اشیا ء میں اضافہ 7.5 فیصد تک جاسکتا ہے
رجسٹرڈ پرچون فروشوں کی تعداد میں اضافہ لازمی ہوگا‘صوبوں کو آئی ایم ایف فریم ورک کے مطابق زرعی ٹیکس لینا ہوگا،اس عمل سے محصولات میں 17 فیصد اضافہ حاصل کرنا ہوگا:ذرائع
اسلام آباد (آن لائن)پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان ہونے والے اسٹاف لیول ایگریمنٹ (ایس ایل اے) کے تحت نئی کاربن لیوی متعارف کرانے پر بھی اتفاق ہوا ہے۔ذرائع کے مطابق بجلی کے نرخوں میں کمی کے ساتھ ساتھ پانی کی قیمتوں میں اضافے اور آٹوموبائل سیکٹر کو عالمی تجارت کے لیے کھولنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری سے مشروط ہے، بورڈ کی منظوری کے بعد پاکستان کو ای ایف ایف کے تحت تقریباً ایک ارب ڈالر تک رسائی حاصل ہو جائے گی، جس کے بعد اس پروگرام کے تحت مجموعی طور پر 2 ارب ڈالر پاکستان کو موصول ہوجائیں گے۔ذرائع کے مطابق وزیر اعظم کی جانب سے بجلی کے اوسط نرخوں میں سات روپے فی تک یونٹ کمی کا اعلان چند دنوں میں متوقع ہے، اس کا اطلاق یکم اپریل 2025 سے متوقع ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ کاربن لیوی، پانی کی قیمتوں اور آٹوموبائل پروٹیکشن ازم سمیت دیگر بڑے اقدامات پر عمل درآمد یکم جولائی 2025 سے متوقع ہے۔ نئے پیکیج کے پاکستانی معیشت پر اثرات،مہنگائی خوراک کی اشیا میں اضافہ 7.5 فیصد تک جاسکتا ہے، ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کے نئے پیکیج کے تحت فی یونٹ بجلی پر ایک روپیہ لیوی لگے گی،عمومی بجلی بل پر ایک روپیہ فی ینٹ کمی کی جائے گی،رجسٹرڈ پرچون فروشوں کی تعداد میں اضافہ لازم ہیصوبوں کو آئی ایم ایف فریم ورک کے مطابق ذرعی ٹیکس لینا ہوگا،اس عمل سے محصولات میں 17 فیصد اضافہ حاصل کرنا ہوگا،انرجی سیکٹر کے استحکام کے لیئے گردشی قرضہ کم کرنا اور صارفین کے لیئے بجلی کی قیمت قابل برداشت رکھنا ہے،معیشت کے کمزور شعبوں کے لیئے سبسڈی جاری رکھنے کو یقینی بنایا جائے گا،فوڈ اینڈ انرجی کے شعبے میں 9 فیصد مہنگائی ہوسکتی ہے