17ہزار573ارب کا وفاقی بجٹ پیش تنخواہیں10‘پنشن 7‘دفاعی بجٹ میں20فیصد اضافہ گاڑیاں‘سولر پینل مہنگے
کسانوں کو ایک لاکھ روپیہ بغیر ضمانت قرض ملے گا‘ کم آمدن طبقے کیلئے ہائوسنگ سکیم کا اعلان جلد ہوگا‘ سود کی آمدن پر ٹیکس کی شرح میں 5 فیصد اضافہ‘نان فائلرز کے بینکوں سے رقم نکلوانے پر ٹیکس 0.6 سے بڑھا کر 1 فیصد کردیا گیا
ریگولیٹری ڈیوٹی میں دو سے 5 فیصد کمی‘ ڈیوٹی میں کمی سے 600 سے زائد کھانے پینے کی درآمدی اشیا ء سستی ہو جائیں گی جن میں ‘ امپورٹڈ چاکلیٹ، ٹافیاں، کینڈی، لالی پاپ، بسکٹ، درآمدی جیلی، مارملیڈ، امپورٹڈ پنیر، مکھن، شہد، مشروبات شامل ہیں ‘ میک اپ کا تقریبا تمام سامان سستا ہونے کا امکان
سالانہ 20کروڑ سے 50 کروڑ روپے آمدنی پر سپر ٹیکس میں 0.5 فیصد کمی کا فیصلہ ‘ اہل ملازمین کو 30 فیصد کی شرح سے ڈسپیرٹی ریڈکشن الائونس دینے کی تجویز ، معذور ملازمین کے لیے خصوصی کنوینس الائونس 4 ہزارسے بڑھا کر 6 ہزارکیا جائے گا ‘مسلح افواج کے افسروں، سولجرز کو سپیشل ریلیف الائونس ملے گا
بجٹ میں ای کامرس یا آن لائن کاروبار کرنے والوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کا فیصلہ‘ایل ای ڈی بلب کے خام مال کی امپورٹ اور ٹیکسٹائل خام مال پر ڈیوٹی صفر کر دی گئی‘ انڈسٹریل سلائی مشین پر بھی کوئی ڈیوٹی ادا نہیں کرنی پڑے گی‘ فارماسوٹیکل کے 381 خام مال پر بھی کوئی ڈیوٹی نہیں ہوگی:وفاقی وزیر خزانہ کی بجٹ تقریر
اسلام آباد (آئی این پی‘مانیٹرنگ ڈیسک )وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال2025-26 کیلئے مجموعی طور پر 17 ہزار 573 ارب روپے مالیت کے حجم پر مشتمل چھ ہزارپانچ سو ایک ارب روپے خسارے کا وفاقی بجٹ منظوری کیلئے پارلیمنٹ میں پیش کردیا،دفاعی بجٹ کے لیے 2 ہزار 550 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، تنخواہ دار طبقے پربڑے ریلیف کا اعلان کرتے ہوئے تمام ٹیکس سلیبز میں نمایاں کمی کی گئی ہے،سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10فیصد جبکہ ریٹائرڈملازمین کی تنخواہوں میں7فیصداضافہ تجویز کیا گیا ہے ، پراپرٹی پر ریلیف جبکہ سولر پینل پر ٹیکس عائدکردیاگیاہے،پیٹرولیم مصنوعات پر ڈھائی روپے فی لیٹر کاربن لیوی عائد کی گئی ہے ،وفاقی حکومت کے کل اخراجات کا تخمینہ 17573ارب روپے ہے، جس میں سے 8207 ارب روپے سود ادائیگی کیلئے مختص ہوں گے، وفاقی حکومت کا جاریہ اخراجات کا تخمینہ16286ارب روپے ہیں، اٹھارہ فیصد سے کم سیلز ٹیکس والی تمام گاڑیوں پر بھی 18 فیصد سیلز ٹیکس عائد کرنے کی تجویز ہے،ای کامرس پلیٹ فارمزترسیل کرنے والے کوریئر اور لاجسٹک خدمات فراہم کرنے والوں سے 18 فیصد سیلز ٹیکس وصول کرکے جمع کرائیں گے، تعلیم کیلئے 18.5 ارب ، سیلاب سے متاثرہ اسکولوں کی تعمیر کیلئے 3 ارب مختص کیے گئے ہیں، وزیر اعظم یوتھ اسکل ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت 4.3 ارب مختص، 1 لاکھ 61 ہزار 500 نوجوانوں کو تعلیم دی جائے گی، سالانہ 20کروڑ سے 50 کروڑ روپے آمدنی پر سپر ٹیکس میں 0.5 فیصد کمی کا فیصلہ کیا گیا ہے ،مجموعی خام ریونیو کا ہدف 19298 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے اور خالص ریونیو کا ہدف 11072 ارب روپے تجویز کیا گیا ہے جبکہ ایف بی آر ٹیکس وصولی کا ہدف 14131 ارب رکھنے جبکہ نان ٹیکس ریونیو کا ہدف 5147 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے اور اگلے مالی سال میں اداروں کی نجکاری سے87 ارب حاصل کرنے کا ہدف تجویز کیا گیا ہے،معاشی شرح نمو (جی ڈی پی) کا ہدف 4.2 فیصد جبکہ مہنگائی کا ہدف ساڑھے 7 فیصد مقرر کیا گیا ہے، برآمدات کا ہدف 35 ارب 30 کروڑ ڈالر اور درآمدات کا ہدف 65 ارب 20 کروڑ ڈالر، ترسیلات زر کا ہدف 39 اعشاریہ 4 ارب ڈالرمقرر کیا گیا ہے،ترسیلات زر کا ہدف 39 اعشاریہ 4 ارب ڈالر ، اشیا اور خدمات کی برامدات کا ہدف 44 اعشاریہ 9 ارب ڈالر جبکہ اشیا اور خدمات کی درآمدات کا ہدف 79 اعشاریہ 2 ارب ڈالر مقرر کیا گیا ہے، بھارتی جارحیت اور سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کے پیش نظر پاکستان نے پانی کو اسٹور کرنے اور ضیاع کو روکنے کیلئے وزارت آبی وسائل کیلئے آئندہ مالی میں 133 ارب روپے مختص کیے ہیں،دیا مر اور بھاشا ڈیم کے لیے 32.7 ارب روپے، مہمند کیلئے 35.7 ارب، آوران پنجگور سمیت بلوچستان کے دیگر 3 ڈیمز کے لیے 5 ارب مختص کیے گئے ہیں، وفاقی حکومت کی خالص آمدنی 11072ارب روپے ہوگی جبکہ ٹیکس ریونیو کا ہدف 5147 ارب رپے ہوگا۔‘وفاقی حکومت کے نئے بجٹ میں مسلح افواج کے افسران، سولجرز کیلئے اسپیشل ریلیف الائونس کا اعلان کیا گیا ہے، اہل ملازمین کو 30 فیصد ڈسپریٹی ریڈکشن الائونس دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔وفاقی وزیر خزانہ کے مطابق یہ اخراجات مالی سال 2025-26 کے دفاعی بجٹ سے پورے کیے جائیں گے۔حکومت نے خصوصی ملازمین کیلئے خصوصی کنوینس الانس کا اعلان بھی کیا ہے، جس کے تحت الانس ماہانہ 4 ہزار سے بڑھا کر 6 ہزار روپے کرنے کی تجویز ہے۔بجٹ میں ریگولیٹری ڈیوٹی میں دو سے 5 فیصد کمی کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس کمی سے درآمدی اشیا سستی ہوں گی۔ جس میں عام استعمال سے لے کر کھانے پینے کی اشیا تک شامل ہیں۔بجٹ کے اطلاق کے بعد درآمدی ڈیوٹی میں کمی سے 600 سے زائد کھانے پینے کی اشیا سستی ہوں گی۔ان میں امپورٹڈ چاکلیٹ، ٹافیاں، کینڈی، لالی پاپ، بسکٹ، درآمدی جیلی، مارملیڈ، امپورٹڈ پنیر، مکھن، شہد، مشروبات شامل ہیں جن پر ڈیوٹی 2 سے 5 فیصد کمی کی گئی ہے۔اس کے علاوہ درآمدی ملک کریم، فلیورڈ ملک، کنڈنسڈ ملک، امپورٹڈ کیچ اپ، مایونیز، آئس کریم، درآمدی پاپڑ، نمکو،چپس، مارش میلوز، امپورٹڈ وٹامن واٹر، منرل واٹر، امپورٹڈ برانڈڈ آٹا، میدہ اور سوجی کی قیمتوں میں بھی کمی ہوگی۔اس کے علاوہ بجٹ میں ڈیوٹیز میں کمی کے اعلان سے سب سے زیادہ فائدہ خواتین کو بھی ہوگا کیونکہ ان کے میک اپ کا تقریبا تمام سامان سستا ہونے کا امکان ہے‘فنانس بل کے مطابق ایل ای ڈی بلب کے خام مال کی امپورٹ پر ڈیوٹی صفر کر دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ٹیکسٹائل خام مال پر بھی ڈیوٹی صفر کر دی گئی ہے۔اب انڈسٹریل سلائی مشین پر بھی کوئی ڈیوٹی ادا نہیں کرنی پڑے گی۔ اسی طرح فارماسوٹیکل کے 381 خام مال پر بھی کوئی ڈیوٹی عائد نہیں ہوگی۔فنانس بل میں ان کے علاوہ بھی مختلف شعبوں میں ڈیوٹی کم کی گئی ہے۔۔فنانس بل کے مطابق مقامی گاڑیوں کے خام مال اور سی کے ڈی پر ڈیوٹی 20 کے بجائے 15 فیصد ہوگی، ریڈیو براڈ کاسٹ ٹرانسمیٹرز پر بھی ڈیوٹی 20 سے کم کرکے 15 فیصد کی گئی ہے۔ٹی وی براڈ کاسٹ ٹرانسمیٹر پر ڈیوٹی 20 کے بجائے 15 فیصد کردی گئی ہے۔فنانس بل کے مطابق فارما سوٹیکل کے 381 خام مال پر ڈیوٹی صفر کردی گئی ہے، صنعتوں کے پیکیجنگ کے خام مال پر ڈیوٹی 10 سے کم کرکے 5 فیصد کی گئی ہے۔ڈائیگنوسٹک کٹ پر ڈیوٹی 10 سے کم کرکے 5 فیصد کردی گئی ہے۔علاوہ ازیں تیل اور گیس تلاش کرنے والی کمپنیوں کی مشینری اور پلانٹ پر ڈیوٹی میں کمی کی گئی ہے، پیٹرولیم کمپنیوں کی مشینری، پلانٹ اور خصوصی گاڑیوں پر ٹیکس 15 کے بجائے 10 فیصد ہوگا‘ آئندہ بجٹ میں خیبرپختونخوا کے ضم شدہ اضلاع اور بلوچستان کو حاصل شدہ ٹیکس چھوٹ ختم کردی گئی ہے‘ ضم شدہ اضلاع میں کاروبار پر آئندہ 5 سال میں مرحلہ وار سیلز ٹیکس عائد کیا جائے گا‘وفاقی حکومت نے اسمگل شدہ گاڑیوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کے لیے نیا قانون تجویز کر دیا، جس کے تحت ایسی گاڑیاں جو چیسس نمبر میں چھیڑ چھاڑ یا تبدیلی کی شکار ہوں گی، انہیں ضبط کر لیا جائے گا۔مجوزہ نئے قانون کے مطابق اگر کسی گاڑی کا چیسس نمبر تبدیل یا کٹ اینڈ ویلز کیا گیا ہو یا چیسس نمبر میں کوئی ایسا مواد بھرا گیا ہو جو اس کی اصل حالت کو چھپانے کے لیے استعمال کیا گیا ہو تو اسے اسمگل شدہ تسلیم کیا جائے گا، چاہے وہ کسی بھی موٹر رجسٹریشن اتھارٹی سے رجسٹرڈ ہو قانون کے تحت گاڑیوں کی فارنزک تحقیقات کی جائیں گی تاکہ کسی بھی قسم کی چھیڑ چھاڑ کا پتا چلایا جا سکے۔مجوزہ قانون کے تحت اگر گاڑی کی فارنزک تحقیقات میں چیسس نمبر یا اس کے حصے میں کوئی تبدیلی یا چھیڑ چھاڑ کی نشان دہی ہوتی ہے تو اس گاڑی کو اسمگل شدہ سمجھا جائے گا اور فورا ضبط کر لیا جائے گا۔وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ سستی بجلی کے حصول کیلئے منصوبہ بندی کر لی ہے، 9 ہزار میگا واٹ کے بجلی گھروں سے معاہدے ختم کر دئیے ہیں‘ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہاہے کہ نان فائلرز کے بینکوں سے رقم نکلوانے پر ٹیکس 0.6 سے بڑھا کا 1 فیصد کیا جارہا ہے۔ نان فائلرز کو گاڑیاں اور پراپرٹی خریدنے کی سہولت نہیں ہوگی۔بجٹ تقریر کے دوران وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ فائلرز اور نان فائلرز کا فرق ختم کرکے صرف ویلتھ اسٹیٹمنٹ جمع کروانے والا مالیاتی لین دین کا حقدار ہوگا۔ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ سولر پینل کی امپورٹ پر 18 فیصد سیلز ٹیکس عائد کیا جارہا ہے، فیصلہ ملک میں سولر پینل کی مقامی صنعت کے فروغ کے لیے کیا جارہا ہے۔انہوں نے کہا اسٹیٹ بینک کم آمدن طبقے کے لیے ہائوسنگ اسکیم کا اعلان جلد کرے گا، بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو سہولتوں میں وسعت دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ چھوٹے کسانوں کو بغیر ضمانت کے ایک لاکھ روپے تک قرض دیا جائے گا جو ڈیجیٹل سسٹم کے ذریعے ای والٹ میں ملے گا۔بجٹ میں ای کامرس یا آن لائن کاروبار کرنے والوں کو بھی ٹیکس نیٹ میں لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ وہ افراد یا کمپنیاں جو آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے اشیا یا خدمات فروخت کرتے ہیں، ان پر ٹیکس لاگو ہوگا۔ اس کے علاوہ آن لائن آرڈر کی گئی اشیا اور خدمات پر بھی ٹیکس عائد کیا جائے گا۔ ای کامرس کاروباری افراد کو اپنی ماہانہ ٹرانزیکشنز کا مکمل ڈیٹا اور ٹیکس رپورٹ متعلقہ اداروں کو جمع کروانی ہوگی۔۔ ایسے افراد جن کی عمر ستر سال سے کم ہے اور جو سالانہ ایک کروڑ روپے سے زائد پنشن حاصل کرتے ہیں ان پر 5 فیصد ٹیکس عائد کیا جائے گا۔ مگر کم اور درمیانی پنشن لینے والوں کو اس ٹیکس سے مستثنی قرار دیا گیا ہے۔ بجٹ میں سود کی آمدن پر ٹیکس کی شرح میں 5 فیصد اضافے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس کے بعد یہ شرح 15 فیصد سے بڑھا کر 20 فیصد ہو جائے گی۔ تاہم یہ اضافہ صرف غیر فعال طریقے سے حاصل ہونے والی آمدن پر لاگو ہوگا، جبکہ قومی بچت اسکیموں پر اس کا اطلاق نہیں کیا جائے گا۔