ویب ڈیسک: پنجاب کی وزیرِ اطلاعات عظمیٰ بخاری نے سانحہ سوات پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ پہلا سانحہ نہیں، اس جیسے کئی واقعات پہلے بھی پیش آ چکے ہیں لیکن موثر اقدامات نہیں کیے گئے۔
میڈیا سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ:"سانحہ سوات انتہائی تکلیف دہ اور افسوسناک ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق ریسکیو ٹیموں کو کئی بار کال کی گئی لیکن وہ موقع پر نہ پہنچ سکیں، جبکہ متاثرین کی جانیں بچائی جا سکتی تھیں۔"انہوں نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا:"وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اُس وقت اڈیالہ جیل کے باہر ایک بادشاہ کی نوکری کر رہے تھے، جبکہ عوام مر رہے تھے۔"عظمیٰ بخاری نے دعویٰ کیا کہ:"سانحے کے وقت کے پی حکومت کی ایئر ایمبولینس بھی ریسکیو کے لیے نہیں پہنچ سکی، جو اس پورے نظام پر سوالیہ نشان ہے۔"
سانحہ سوات کا پس منظر:
17 افراد دریائے سوات میں بارش کے بعد آنے والے ریلے میں بہہ گئے۔
10 افراد کی لاشیں نکال لی گئی ہیں، جبکہ 3 افراد کی تلاش جاری ہے۔
پانی کی سطح میں کمی کے بعد سرچ آپریشن میں پیش رفت ہو رہی ہے۔
عظمیٰ بخاری کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خیبرپختونخوا حکومت پر ریسکیو اور رسپانس میں سستی کے الزامات لگائے جا رہے ہیں۔