سوات حادثے کے بعد کے پی حکومت کا بڑا قدم، ڈویژنل ہیڈکوارٹرز کے لیے ائیر ایمبولینس سروس شروع کرنے کا فیصلہ

سوات حادثے کے بعد کے پی حکومت کا بڑا قدم، ڈویژنل ہیڈکوارٹرز کے لیے ائیر ایمبولینس سروس شروع کرنے کا فیصلہ

خیبرپختونخوا حکومت نے حالیہ سوات حادثے کے بعد ڈویژنل ہیڈکوارٹرز کے لیے ائیر ایمبولینس سروس شروع کرنے کا اہم فیصلہ کر لیا ہے۔

 ذرائع کے مطابق، پہلے مرحلے میں یہ سروس سوات، ڈیرہ اسماعیل خان (ڈی آئی خان) اور ایبٹ آباد جیسے دشوار گزار اور حساس علاقوں کے لیے متعارف کرائی جائے گی۔

ائیر ایمبولینس کے لیے تربیت یافتہ عملہ بھرتی ہوگا
ذرائع کے مطابق، ائیر ایمبولینس سروس کے لیے ہیلی کاپٹرز کا استعمال کیا جائے گا، اور ان میں ایسے ٹرینڈ اور تربیت یافتہ میڈیکل و ریسکیو عملے کو تعینات کیا جائے گا جو:

پہاڑی علاقوں
سیلاب سے متاثرہ علاقوں
اور دیگر ایمرجنسی حالات میں بروقت ریسکیو کر سکیں۔
سوات واقعے میں عملے کی کمی رکاوٹ بنی
صوبائی انسپکشن ٹیم کے ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ سوات حادثے کے وقت علاقے میں ہیلی کاپٹر موجود تھا، مگر اس پر سوار تربیت یافتہ ریسکیو عملہ دستیاب نہیں تھا، جس کے باعث امدادی کارروائیوں میں تاخیر ہوئی۔

مزید بتایا گیا کہ حادثے کے وقت تیز ہواؤں کی وجہ سے بھی ہیلی کاپٹر کی پرواز خطرناک تصور کی گئی، جس نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔

سروس کا مقصد: بروقت ریسپانس اور قیمتی جانوں کا تحفظ
کے پی حکومت کے مطابق، ائیر ایمبولینس سروس کا مقصد یہ ہے کہ:

دور دراز علاقوں میں موجود متاثرہ افراد کو بروقت طبی امداد اور اسپتالوں تک رسائی دی جا سکے۔
سیاحتی مقامات پر پیش آنے والے ہنگامی واقعات کا فوری اور مؤثر جواب دیا جا سکے۔
قدرتی آفات جیسے سیلاب یا زلزلے کی صورت میں فوری ریسکیو آپریشنز ممکن ہو سکیں۔
 پس منظر: سوات حادثہ اور عوامی ردعمل
چند روز قبل سوات میں پیش آنے والے ایک المناک واقعے میں سیاح دریا میں پھنس گئے تھے، جنہیں مقامی نوجوانوں نے اپنی جانوں پر کھیل کر بچایا۔ اس واقعے نے ریسکیو نظام کی کمزوریوں کو نمایاں کیا اور عوامی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا، جس کے بعد حکومت کو ائیر ایمبولینس سروس کے منصوبے پر فوری عملدرآمد کی ضرورت محسوس ہوئی۔

 توقعات
اس فیصلے کو عوامی حلقوں کی جانب سے خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے، اور توقع کی جا رہی ہے کہ حکومت جلد اس منصوبے کو عملی جامہ پہنا کر خیبرپختونخوا میں ریسکیو سروسز کو جدید اور مؤثر بنائے گی۔