سوات سانحہ: 12 ہلاکتوں کے بعد دریائے سوات میں ارلی وارننگ سسٹم نصب کرنے کا فیصلہ

سوات سانحہ: 12 ہلاکتوں کے بعد دریائے سوات میں ارلی وارننگ سسٹم نصب کرنے کا فیصلہ

ویب ڈیسک : دریائے سوات میں حالیہ افسوسناک واقعے میں 12 سیاحوں کی ہلاکت کے بعد دریا میں مختلف مقامات پر جدید ارلی وارننگ سسٹم نصب کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔

 یہ فیصلہ انکوائری کمیٹی کے اجلاس کے دوران سامنے آیا جس میں کمشنر ملاکنڈ ڈویژن عابد وزیر نے سانحہ سے متعلق تحریری رپورٹ پیش کی۔

 انکوائری کمیٹی کے سامنے پیشی:
سرکاری ذرائع کے مطابق:کمشنر ملاکنڈ ڈویژن عابد وزیر سانحہ سوات سے متعلق قائم انکوائری کمیٹی کے روبرو پیش ہوئے۔انہوں نے واقعے سے متعلق تفصیلی تحریری رپورٹ جمع کروا دی۔
کمیٹی نے کمشنر سے سیاحتی تحفظ، حکومتی غفلت، اور مستقبل کی منصوبہ بندی سے متعلق متعدد سوالات کیے۔
 سیاحت کی نگرانی پر مؤقف:
کمیٹی کے سوال پر کہ سیاحت کے فروغ اور تحفظ کی ذمہ داری کس کی ہے؟
کمشنر عابد وزیر نے جواب دیا:"سیاحت ایک الگ شعبہ ہے، یہ تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن کا کام نہیں۔ سوات میں سیاحت کی ذمہ داری اپر سوات ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو دی جانی چاہیے تاکہ سیاحتی مقامات کی بہتر نگرانی اور تحفظ ممکن بنایا جا سکے۔"
 ارلی وارننگ سسٹم سے متعلق پیش رفت:
کمیٹی کے سوال پر کہ دریا میں طغیانی سے قبل وارننگ کا کوئی نظام کیوں فعال نہیں تھا؟
کمشنر نے بتایا:"ہم جدید ارلی وارننگ سسٹم پر کام کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں غلام اسحاق خان انسٹیٹیوٹ (GIKI) اور ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ (WWF) سے رابطہ کیا گیا ہے۔ GIKI جدید وارننگ سسٹم تیار کر رہا ہے جو دریاوں اور ندی نالوں پر نصب کیا جائے گا۔"
سانحہ کے دن کی تفصیلات:
کمیٹی نے سوال کیا کہ 27 جون کو دریا میں کیا ہوا؟
عابد وزیر نے بتایا:اس دن شدید بارش کے باعث دریائے سوات میں پانی کی سطح 77,782 کیوسک تک پہنچ گئی، جو ایک خطرناک حد ہے۔خوازہ خیلہ کے مقام پر ایک ہوٹل گارڈ نے سیاحوں کو دریا میں جانے سے روکا، لیکن وہ ہوٹل کے پچھلے راستے سے دریا میں داخل ہو گئے۔پانی کی سطح بڑھنے پر صبح 9:45 پر ریسکیو 1122 کو کال کی گئی۔20 منٹ بعد، 10:05 پر ریسکیو ٹیم موقع پر پہنچی اور 17 پھنسے ہوئے افراد میں سے 4 کو فوری طور پر ریسکیو کیا گیا۔
 قبل از وقت الرٹس اور تیاری:
موسمیاتی اداروں کی جانب سے بارشوں اور ممکنہ طغیانی کے کئی الرٹس پہلے ہی موصول ہو چکے تھے۔ان الرٹس کی بنیاد پر متعلقہ اداروں کو پہلے سے الرٹ کر دیا گیا تھا۔
 نتیجہ:
یہ سانحہ سوات میں سیاحتی انتظامات کی کمزوری اور ارلی وارننگ سسٹم کی غیر موجودگی کو نمایاں کرتا ہے۔ حکومت کی جانب سے اب فوری اقدامات کیے جا رہے ہیں جن میں:

ارلی وارننگ سسٹمز کی تنصیب،
سیاحتی انتظامات کا ازسرِنو جائزہ،
اور ذمہ دار اداروں کی واضح تقسیم شامل ہے۔