لاہور کے نواحی علاقے تحصیل فیروزوالا اور دریائے راوی کے کنارے واقع متعدد دیہات میں سیلابی صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔
پانی کی سطح میں مزید دو سے تین فٹ اضافے کے بعد پٹھان کالونی کا مین لاہور جی ٹی روڈ سے زمینی رابطہ منقطع ہو گیا، جبکہ متعدد گھر زیر آب آنے سے سینکڑوں خاندان محصور ہو گئے ہیں۔رپورٹس کے مطابق متاثرہ علاقوں سے شہری محفوظ مقامات کی جانب نقل مکانی کر رہے ہیں۔ اب تک سیلاب سے متعلق مختلف واقعات میں تین بچوں کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات ہیں، جبکہ رچنا ٹاؤن، رانا ٹاؤن، پٹھان کالونی، کوٹ عبدالمالک، کالا شاہ کاکو کے نواحی علاقے، مراد پور اور جامکے چیمہ سمیت کئی علاقوں میں کئی کئی فٹ پانی جمع ہے۔مقامی افراد کے مطابق حفاظتی بند ٹوٹنے یا برساتی پانی کے اوور فلو کے باعث مختلف آبادیوں میں پانی داخل ہوا، جس سے متعدد دیہات زیر آب آ گئے۔ کئی خاندان خواتین، بچوں اور بزرگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر چکے ہیں، جبکہ بعض افراد گھروں میں موجود سامان کی حفاظت کے لیے وہیں رکے ہوئے ہیں۔پٹھان کالونی کے رہائشی محمد ریاض نے بتایا کہ علاقے میں گزشتہ چار روز سے بجلی بند ہے اور پانی کی سطح مسلسل بڑھ رہی ہے۔ ان کے مطابق اہل خانہ کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے، تاہم وہ چوری کے خدشے کے پیش نظر گھر کی نگرانی کر رہے ہیں۔متاثرہ خاتون رشیداں بی بی نے بتایا کہ ان کے گھر کا بیشتر سامان پانی میں تباہ ہو چکا ہے اور زندگی بھر کی جمع پونجی ضائع ہو گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں اب تک خاطر خواہ سرکاری امداد نہیں ملی۔
ایک اور رہائشی عبدالرحمن کے مطابق رات کے وقت پانی اچانک گھروں میں داخل ہوا، جس کے باعث اہل خانہ کو فوری طور پر محفوظ مقام پر منتقل کرنا پڑا، جبکہ گھریلو سامان کا بڑا حصہ پانی میں رہ گیا۔رچنا ٹاؤن کے رہائشی محمد سلیم نے بتایا کہ کئی روز گزرنے کے باوجود پانی کی سطح کم نہیں ہوئی، جس سے معمولاتِ زندگی مفلوج ہو چکے ہیں اور متاثرین کو خوراک اور صاف پینے کے پانی کی فراہمی میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔متاثرہ علاقوں میں ریسکیو 1122، الخدمت فاؤنڈیشن اور پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے شعبہ خدمتِ خلق سمیت مختلف فلاحی ادارے امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ رضاکار کشتیوں کے ذریعے خواتین، بچوں، بزرگوں اور دیگر متاثرین کو محفوظ مقامات پر منتقل کر رہے ہیں، جبکہ متاثرہ خاندانوں میں پکا ہوا کھانا، خشک راشن، صاف پانی اور دیگر ضروری اشیائے ضروریہ تقسیم کی جا رہی ہیں۔پاکستان مرکزی مسلم لیگ کی جانب سے متاثرین کے لیے ہنگامی ریلیف اور میڈیکل کیمپ بھی قائم کیا گیا ہے، جہاں مفت ادویات، ابتدائی طبی امداد، صاف پانی اور کھانے کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔ تنظیم کے مطابق اب تک تقریباً دو ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔
متاثرہ علاقوں کے مکینوں نے شکایت کی کہ اگرچہ حکومت کی جانب سے ڈرون کے ذریعے سیلابی صورتحال کی نگرانی کے دعوے کیے گئے، تاہم مقامی آبادی کو بروقت خطرے سے آگاہ نہیں کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر برساتی نالوں کی بروقت صفائی اور تجاوزات کے خاتمے کے اقدامات کیے جاتے تو نقصانات میں نمایاں کمی آ سکتی تھی۔علاقہ مکینوں کے مطابق اب تک کوئی اعلیٰ حکومتی یا انتظامی نمائندہ متاثرہ آبادیوں کا دورہ نہیں کر سکا، جبکہ امدادی سرگرمیوں کا زیادہ تر انحصار ریسکیو اداروں اور فلاحی تنظیموں پر ہے۔دوسری جانب محکمہ موسمیات کی جانب سے مزید مون سون بارشوں کی پیش گوئی کے بعد مقامی آبادی میں تشویش پائی جا رہی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر بارشوں کا نیا سلسلہ شروع ہوا تو زیر آب علاقوں میں صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔