ساہیوال کے علاقے قطب شہانہ کے مقام پر دریائے راوی میں نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے باعث قریبی دیہات میں زرعی اراضی زیرِ آب آنا شروع ہو گئی ہے اور کاشتکاروں کو بھاری مالی نقصان کا سامنا ہے۔
مقامی زمینداروں کے مطابق گزشتہ سال ٹوٹنے والے حفاظتی بند کی تاحال مرمت نہ ہونے کے باعث سیلابی پانی موضع اورنگ آباد میں داخل ہو گیا، جس سے وسیع پیمانے پر فصلیں متاثر ہوئی ہیں۔کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ سیلابی پانی کی وجہ سے سینکڑوں ایکڑ زرعی اراضی متاثر ہوئی ہے، جبکہ 100 سے زائد ایکڑ پر کھڑی کماد، تل، مکئی اور دھان کی فصلیں پانی میں ڈوب گئی ہیں۔ اس کے علاوہ مویشیوں کے لیے ذخیرہ کیا گیا چارہ بھی سیلابی ریلے میں بہہ گیا، جس سے کسانوں کے نقصانات میں مزید اضافہ ہوا ہے۔مقامی افراد کے مطابق سیلابی پانی اب موضع اورنگ آباد اور موسیٰ پور کی نواحی آبادیوں کی جانب بڑھ رہا ہے، جس سے مزید دیہات اور زرعی رقبے کے متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
زمینداروں نے ضلعی انتظامیہ پر غفلت کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سال متاثر ہونے والے بند کی بروقت مرمت نہیں کی گئی، جس کے نتیجے میں انہیں مسلسل دوسرے سال بھی کروڑوں روپے کے نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔متاثرہ کاشتکاروں نے حکومت اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ حفاظتی بند کی ہنگامی بنیادوں پر مرمت کی جائے، سیلابی پانی کو آبادیوں میں داخل ہونے سے روکا جائے اور متاثرہ کسانوں کو فوری مالی امداد اور نقصانات کا مناسب ازالہ فراہم کیا جائے۔