بھارت کی جانب سے دریائے ستلج میں مزید پانی چھوڑنے کے بعد ہیڈ گنڈا سنگھ والا پر پانی کا بہاؤ تیزی سے بڑھ گیا، جس کے نتیجے میں 3.27 لاکھ کیوسک کا سیلابی ریلا گزرا، اور متعدد دیہات زیر آب آگئے۔
پاکستان میں سیلابی اثرات:
ملتان کی تحصیل جلال پور پیر والا میں دریائے چناب کی طغیانی سے 100 سے زائد بستیاں پانی میں ڈوب گئیں۔ ہیلی کاپٹرز اور کشتیوں کے ذریعے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔کئی علاقے میں شہری نقل مکانی پر مجبور ہو گئے ہیں، اور شہر کے بند تک پانی پہنچنے پر ریڈ الرٹ جاری کیا گیا ہے۔وہاڑی پل کو توڑ دیا گیا تاکہ شہر کو بچایا جا سکے۔آئندہ 12 گھنٹوں کو انتہائی اہم قرار دیا گیا ہے، اور شہریوں کو علاقہ خالی کرنے کے لیے مساجد سے اعلانات کیے جا رہے ہیں۔
متاثرہ علاقے اور حادثات:
لیاقت پور میں دریائے چناب کے ریلے نے 35 دیہات کو متاثر کیا۔جلال پور پیر والا میں موسلادھار بارش سے سیلاب کی شدت میں اضافہ ہوا۔عارف والا میں دریائے ستلج کی صورتحال تشویشناک ہے۔ٹبی لال بیگ کے قریب سیلابی ریلہ تیزی سے بہاؤ کی جانب بڑھ رہا ہے۔چار افراد پانی میں ڈوب گئے جن میں سے دو کی لاشیں نکال لی گئیں، اور دو کی تلاش جاری ہے۔ترنڈہ محمد پناہ میں کشتی الٹنے سے دو خواتین جاں بحق ہو گئیں، اور چار بچے لاپتہ ہیں۔
سیلاب کی شدت اور ممکنہ خطرات:
درمیانے اور بڑے سیلاب:
گڈو بیراج پر پانی کا بہاؤ 4.16 لاکھ کیوسک تک پہنچ چکا ہے، اور ممکنہ طور پر یہ 8 لاکھ کیوسک سے تجاوز کر سکتا ہے، جس سے کچے کے علاقے زیر آب آ سکتے ہیں۔خان پور میں دریائے سندھ سے 7.82 لاکھ کیوسک کا ریلا گزر رہا ہے، اور آئندہ 24 گھنٹوں میں یہ 9 سے 10 لاکھ کیوسک تک جا سکتا ہے۔سکھر میں نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے۔
حکومتی اور عوامی اقدامات:
سندھ حکومت نے صورتحال پر قابو ہونے کا دعویٰ کیا ہے، اور سرکاری سطح پر پانی کی سطح پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔پنجند اور تریموں کے مقامات پر بھی صورتحال سنگین ہے۔انتظامیہ نے ہائی الرٹ جاری کیا ہے اور عوام سے حفاظتی تدابیر اختیار کرنے اور ریسکیو اداروں کے ساتھ تعاون کرنے کی اپیل کی ہے۔