پنجاب کے مختلف اضلاع میں دریاؤں میں طغیانی اور بھارت کی جانب سے پانی چھوڑے جانے کے بعد صورتِ حال سنگین ہو گئی ہے۔
شدید بارشوں اور دریائی ریلوں نے لاکھوں افراد کو متاثر کیا ہے جبکہ فصلوں اور گھروں کو بھی بھاری نقصان پہنچا ہے۔ذرائع کے مطابق دریائے چناب، راوی اور ستلج میں پانی کی سطح تیزی سے بلند ہو رہی ہے۔ جھنگ، قصور، بہاولنگر، پاکپتن اور نارووال کے نشیبی علاقے زیرِ آب آچکے ہیں۔ صرف جھنگ کے بیلہ جبانہ، بستی کھوہ، جان محمد اور مگھیانہ میں درجنوں گھر اور سینکڑوں ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہو گئیں۔ چشتیاں کے قریب تیز بہاؤ کے باعث حفاظتی بند ٹوٹنے سے کئی بستیاں ڈوب گئیں جس سے مکین کڑی مشکلات کا شکار ہیں۔
ریسکیو 1122 اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ریلیف اور انخلا کی کارروائیاں جاری ہیں۔ اب تک ہزاروں افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے جبکہ درجنوں عارضی کیمپس قائم کر دیے گئے ہیں جہاں متاثرین کو کھانے پینے اور طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔محکمۂ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ اگلے 48 گھنٹے نہایت اہم ہیں کیونکہ بھارت کی جانب سے مزید پانی چھوڑے جانے کا امکان ہے، جس سے دریائے راوی اور ستلج میں سیلابی صورتِ حال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔ حکام نے متاثرہ علاقوں کے مکینوں کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی ہے۔