آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات کے پہلے مرحلے کے کامیاب انعقاد کے موقع پر وزیر اعظم شہباز شریف نے مسلم لیگ ن کو مبارکباد دی ہے۔
انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ مسلم لیگ ن کی قیادت میں ملک بھر کی ٹیم نے آزاد کشمیر میں انتخابی مہم کو کامیابی سے ہمکنار کیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ انتخابات میں سیاسی جماعتوں نے بھرپور حصہ لیا، جو جمہوریت کے صحت مند عمل کی نشانی ہے۔ وزیراعظم نے عوام سے اگلے مرحلے میں بھی اسی جذبے کے ساتھ حصہ لینے کی اپیل کی تاکہ جمہوری عمل کو مزید مضبوط کیا جا سکے۔
انتخابات کے نتائج کے مطابق، غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج کے مطابق مسلم لیگ ن نے میدان مار لیا ہے۔ 13 حلقوں کے مکمل نتائج کے مطابق، ن لیگ نے 9 نشستیں جیتی ہیں جبکہ پیپلزپارٹی کو 4 نشستیں ملی ہیں۔ میرپور ڈویژن کے تین اضلاع میرپور، کوٹلی اور بھمبر کے 13 حلقوں میں ووٹنگ ہوئی، جو صبح 8 بجے شروع ہو کر شام 6 بجے تک جاری رہی۔ پولنگ کے دوران امن و امان کو برقرار رکھنے کے لیے سخت سیکیورٹی انتظامات کیے گئے تھے۔ بعض حلقوں میں پولنگ کا وقت ایک گھنٹہ بڑھایا گیا تاکہ ووٹنگ مکمل کی جا سکے۔
نتائج کے مطابق، میرپور کے حلقہ ایل اے 1 میں مسلم لیگ ن کے اظہر صادق 15,427 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے، جبکہ پیپلزپارٹی کے محمد افسر شاہد 9,832 ووٹ حاصل کرسکے۔ اسی طرح، دیگر حلقوں میں بھی مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی نے مقابلہ کیا۔ بھمبر کے حلقہ ایل اے 5 سے مسلم لیگ ن کے امیدوار وقار احمد نور نے 30,259 ووٹ حاصل کیے، جبکہ پیپلزپارٹی کے امیدوار چوہدری پرویز اشرف نے 29,574 ووٹ لیے۔ کوٹلی کے حلقہ ایل اے 9 میں، مسلم لیگ ن کے عمیر نعیم 31,080 ووٹ لے کر کامیاب رہے، جبکہ پیپلزپارٹی کے جاوید اقبال بڈھانوی 28,509 ووٹ حاصل کرسکے۔
سیاسی رہنماؤں کی طرف سے بھی اس انتخابی مرحلے پر تبصرے ہوئے ہیں۔ مسلم لیگ ن کی رہنما اور پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر کہا کہ میرپور نے نواز شریف اور مریم نواز کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کیا ہے اور آزاد کشمیر کی ترقی صرف مسلم لیگ ن کے ساتھ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مظفرآباد بھی اپنی حمایت کا اعلان پہلے ہی کر چکا ہے اور 2 اگست کو عوام اس کا باضابطہ اعلان کریں گے۔
انتخابات کے دوران کچھ ناخوشگوار واقعات بھی پیش آئے ہیں۔ پولنگ کے عمل میں کم تعداد میں ووٹ ڈالے گئے، جبکہ بعض امیدواروں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ میر پور کی تحصیل بھمبر میں استحکام پاکستان پارٹی کے امیدوار علی شان سونی کو پولیس نے گرفتار کیا، کیونکہ وہ بیلٹ بکس لے کر پولنگ اسٹیشن سے باہر جانے کی کوشش کر رہے تھے۔ اس کے علاوہ، ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر دو پریذائیڈنگ افسران کو گرفتار کیا گیا کیونکہ وہ پولنگ اسٹیشن سے غائب تھے اور نجی رہائش گاہ پر پائے گئے۔ الیکشن کمیشن نے ان کے خلاف سخت کارروائی کی ہے۔
انتخابی عمل کے دوران، الیکشن کمیشن اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے امن و امان برقرار رکھنے کے لیے اقدامات کیے۔ میرپور ڈویژن کے 13 حلقوں میں مجموعی طور پر 14 لاکھ 1 ہزار 439 ووٹرز رجسٹرڈ ہیں، جن میں سے مرد ووٹرز کی تعداد 7.25 لاکھ اور خواتین کی 6.75 لاکھ ہے۔ 2,454 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے ہیں، جن میں سے ضلع میرپور کے 4 حلقوں میں 597، ضلع کوٹلی کے 6 حلقوں میں 1107 اور ضلع بھمبر کے 3 حلقوں میں 608 اسٹیشنز شامل ہیں۔ مجموعی طور پر 296 امیدوار انتخابی میدان میں ہیں، جن میں سیاسی جماعتیں اور آزاد امیدوار شامل ہیں۔
ایف آئی آر اور گرفتاریوں کے علاوہ، سیاسی تشدد اور تصادم کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔ نکیال میں پولنگ کے دوران پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے کارکنوں کے درمیان تصادم ہوا، جس کے نتیجے میں پیپلز پارٹی کے کارکن مختار یونس جاں بحق اور تین زخمی ہوگئے۔ اس واقعہ کے بعد علاقے میں کشیدگی پائی جا رہی ہے۔ پیپلزپارٹی کے رہنماؤں کا الزام ہے کہ ن لیگ کے امیدوار سردار عمیر نعیم نے اسلحہ نمائش کرکے ووٹرز کو خوفزدہ کیا۔
اس دوران، پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری مظفرآباد پہنچے اور انہوں نے شہید کارکن کے اہل خانہ سے تعزیت کی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ن لیگ کے امیدوار کی فائرنگ کے نتیجے میں پیپلزپارٹی کا کارکن جاں بحق ہوا ہے۔ بلاول نے کہا کہ اگر حکام اور الیکشن کمیشن بروقت نوٹس لیتے تو یہ انسانی جان ضائع نہ ہوتی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس واقعے کی فوری تحقیقات کی جائیں اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہو۔
علاوہ ازیں، پیپلزپارٹی نے ایل اے-8 کوٹلی ون راج محل کے پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہ پولنگ کا مطالبہ کیا ہے کیونکہ وہاں مبینہ طور پر ووٹرز یرغمال بنائے گئے ہیں اور حالات غیر یقینی ہیں۔ سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں، تاکہ شفاف اور پرامن انتخابی عمل ممکن ہو سکے۔
دوسری جانب، وزیراعلیٰ پنجاب اور دیگر سیاسی رہنماؤں نے الزام عائد کیا ہے کہ پیپلزپارٹی کشمیر کے انتخابات میں دھاندلی کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر میں ووٹ ڈالنے والوں کی تعداد کم ہے اور بعض پولنگ اسٹیشنز پر ہنگامہ آرائی کی اطلاعات ہیں۔ ان حالات میں، الیکشن کمیشن اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ فوری طور پر مداخلت کریں تاکہ انتخابات محفوظ اور شفاف رہیں۔
مجموعی طور پر، آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات کے پہلے مرحلے میں، حوصلہ افزا سیاسی حصہ داری کے علاوہ کچھ ناخوشگوار واقعات بھی رونما ہوئے۔ عوام نے بڑی تعداد میں ووٹ دیا، لیکن پولنگ کے عمل میں کچھ رکاوٹیں اور تشویشات بھی موجود ہیں۔ تمام جماعتوں اور حکام کی جانب سے امن و امان اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔