لاہور(زیڈ این این)حالیہ مطالعات کے مطابق نوجوانوں اور نو عمر افراد کی ایک بڑی تعداد روزمرہ سماجی روابط اور ذاتی گفتگو کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا سہارا لینے لگی ہے، جبکہ تقریباً 20 فیصد نوجوان تعلقات سے متعلق مشورے اور جذباتی معاونت کے لیے اے آئی چیٹ بوٹس استعمال کر رہے ہیں۔ تحقیق کے مطابق نوجوان مشکل ٹیکسٹ پیغامات لکھنے، غیر آرام دہ گفتگو کی مشق کرنے اور مختلف سماجی حالات کو سمجھنے کے لیے بھی اے آئی ٹولز سے مدد لے رہے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ بہت سے نوجوان ڈیجیٹل معاونین کو پیچیدہ انسانی تعلقات سے نمٹنے کا کم دباؤ والا ذریعہ سمجھتے ہیں، کیونکہ یہ ہر وقت دستیاب ہوتے ہیں اور مسترد کیے جانے کے خوف کو کم کرتے ہیں