جرائم روکنے کیلئے مصنوعی ذہانت کا آغاز

اے آئی سسٹم گزشتہ سالوں کے ڈیٹا کو استعمال کرے گا اورجرائم کے ہاٹ سپاٹس کی نشاندہی کرے گا 
سسٹم مصنوعی ذہانت سے 24 گھنٹے قبل ہاٹ سپاٹ ایریاز میں ممکنہ جرائم کی پیش گوئی کر سکتا ہے 
مصنوعی ذہانت کے ذریعے تھانوں کی سطح پر وسائل کی مؤثر تقسیم بھی ممکن ہو گی، پولیس کارکردگی بہتر ہوگی 
لاہور(کرائم رپورٹر)لاہور پولیس نے جرائم کی پیش گوئی کے لیے مصنوعی ذہانت اے آئی نظام کا استعمال شروع کر دیا۔ پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کا تیار کردہ اے آئی سسٹم گزشتہ سالوں کے ڈیٹا کو استعمال کرے گااے آئی سسٹم سے جرائم کے ہاٹ سپاٹس کی نشاندہی کا عمل کامیابی سے شروع ہو گیا۔ یہ سسٹم مصنوعی ذہانت سے 24 گھنٹے قبل ہاٹ سپاٹ ایریاز میں ممکنہ جرائم کی پیش گوئی کر سکتا ہیمصنوعی ذہانت کے ذریعے تھانوں کی سطح پر وسائل کی مؤثر تقسیم بھی ممکن ہو گی۔ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران نے کہا کہ سیف سٹی کیمروں، فیلڈ انٹیلی جنس اور کمیونٹی پولیسنگ سے لاہور مزید محفوظ ہوا، مصنوعی ذہانت جرائم کی پیشگی نشاندہی کر کے پولیس کی کارکردگی بڑھائے گی۔ انہوں نے کہاکہ اے آئی انسانی پولیسنگ کا متبادل نہیں بلکہ مددگار نظام ہے، مصنوعی ذہانت سے پولیس کے گشت اور فوری ریسپانس میں مزید بہتری آئے گی