مصنوعی ذہانت کے باعث آئندہ جنگیں زیادہ خطرناک ہو سکتی ہیں خواجہ آصف

مصنوعی ذہانت امن کا ذریعہ بنے، ہتھیار نہیں، مصنوعی ذہانت کی عسکریت پسندی عدم تحفظ کو بڑھاتی ہے‘پاکستان نے رواں سال اپنی پہلی مصنوعی ذہانت پالیسی بنائی 
برطانیہ نے پی آئی اے کو افتتاحی پرواز کیلئے 21 اور 25 اکتوبر کی تاریخیں دیدیں، پاکستانی قوم، بالخصوص برطانیہ میں مقیم پاکستانیوں کیلئے یہ  فخر کا لمحہ  ہے
نیویارک(آئی این پی )وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے  مصنوعی ذہانت کے باعث آئندہ کی جنگیں زیادہ خطرناک ہو سکتی ہیں،مصنوعی ذہانت امن کا ذریعہ بنے، ہتھیار نہیں، مصنوعی ذہانت کی عسکریت پسندی عدم تحفظ کو بڑھاتی ہے۔ان خیالات کااظہار انہوں  نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں "مصنوعی ذہانت اور بین الاقوامی امن و سلامتی" کے موضوع پر ہونے والے اعلی سطحی مباحثے میں خطاب کے دوران  کیا۔وزیر دفاع نے مصنوعی ذہانت کے عسکری استعمال پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا مصنوعی ذہانت حیرت انگیز رفتار سے ہماری دنیا کو بدل رہی ہے۔ یہ ہماری عصرِ حاضر کی سب سے اہم ٹیکنالوجی ہے، جو ایک طرف ترقی و خوشحالی کا ذریعہ بن سکتی ہے، تو دوسری جانب عدم مساوات میں اضافے اور عالمی نظام کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کا بھی سبب بن سکتی ہے۔اگر اس ٹیکنالوجی کو ذمہ داری سے استعمال کیا جائے، تو یہ جامع ترقی اور مشترکہ خوشحالی کی ضامن بن سکتی ہے۔ لیکن عالمی سطح پر کسی بھی واضح اصولی یا قانونی فریم ورک کی غیر موجودگی میں، مصنوعی ذہانت انقلاب ڈیجیٹل تقسیم کو مزید گہرا، انحصار کو مزید پیچیدہ، اور امن کو خطرے میں ڈال سکتا ہے‘دریں اثناء ایکس پر پیغام میں وزیردفاع نے کہا برطانیہ کے ایویشن ڈیپارٹمنٹ نے  پی آئی اے  کو تمام ضروری تقاضوں کی تکمیل کے بعد مانچسٹر کے لیے افتتاحی پرواز کے لئے  21 اور 25 اکتوبر کی تاریخیں دے دی ہیں،  الحمدللہ! یہ ایک عظیم کامیابی ہے۔ پاکستانی قوم، بالخصوص برطانیہ میں مقیم پاکستانیوں کے لیے یہ ایک فخر کا لمحہ ہے۔ مبارک ہو! اب نئے عز م کے ساتھ آگے بڑھیں اور پاکستان کا نام روشن کریں!