بھارت کی ریاست بہار میں خواتین کے تحفظ سے متعلق حکومتی دعوے ایک بار پھر سوالیہ نشان بن گئے جب ایک 26 سالہ خاتون کو مبینہ طور پر سرکاری ایمبولینس میں زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔
واقعے کی تفصیل
بھارتی میڈیا (NDTV) کے مطابق، متاثرہ خاتون گارڈ بھرتی کے دوران جسمانی ٹیسٹ دیتے ہوئے بے ہوش ہو گئی تھیں، جس کے بعد انہیں ایمبولینس میں لے جایا گیا۔ متاثرہ خاتون کا کہنا ہے کہ نیم بے ہوشی کے دوران ایمبولینس میں 3 سے 4 افراد نے زیادتی کا نشانہ بنایا۔تحقیقات میں سی سی ٹی وی فوٹیج کے ذریعے ایمبولینس کے روٹ اور وقت کی تصدیق بھی کر لی گئی ہے۔
سیاسی ردعمل
رکن پارلیمنٹ چراغ پاسوان نے بہار میں بڑھتے جرائم پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا:"یہ صرف عصمت دری کا واقعہ نہیں بلکہ مودی حکومت کی مکمل ادارہ جاتی ناکامی ہے۔ ریاستی انتظامیہ مجرموں کے سامنے جھک چکی ہے، جان سے مارنے، عصمت دری، چوری اور ڈکیتی جیسے جرائم عام ہو گئے ہیں۔"انہوں نے مزید کہا کہ یہ واقعہ کسی سنسان گلی میں نہیں بلکہ سرکاری بھرتی کے دوران پیش آیا ہے، جو ناقص انتظامات اور مودی سرکار کی ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔
مودی حکومت پر سوالات
واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر بھی شدید ردعمل سامنے آیا ہے، جہاں صارفین نے کہا کہ مودی سرکار کے "بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ" جیسے نعرے محض سیاسی دکھاوا ہیں، جبکہ خواتین کے تحفظ کے لیے کوئی حقیقی اقدامات نہیں کیے جا رہے۔