بھارت کی ریاست بہار میں ووٹر رجسٹریشن کے عمل میں حالیہ سختیوں اور پیچیدہ تقاضوں نے ہر طبقے کے عوام کو شدید پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔
تجزیہ کاروں اور اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا ہے کہ نریندر مودی حکومت نے جمہوریت کے پردے میں انتخابی عمل کو ذاتی مفادات کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔
اضافی دستاویزات کی شرط، عوام پریشان
اخبار دی انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق:نئی ووٹر رجسٹریشن پالیسی کے تحت بہار کے شہریوں کو ڈومیسائل سرٹیفکیٹ سمیت اضافی دستاویزات فراہم کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے.یہ شرط نہ صرف اقلیتوں اور انتہائی پسماندہ طبقات کو متاثر کر رہی ہے بلکہ اعلیٰ ذات کے ہندو بھی اس جال میں پھنسے ہوئے ہیں.صرف ساورتھ پنچایت میں جمع کرائی گئی 2,200 میں سے صرف 150 سرٹیفکیٹس جاری ہو سکے.
ووٹنگ کا حق چھننے کا خدشہ
مقامی شہریوں کا کہنا ہے:"ہمیں دستاویزات کے نام پر ہراساں کیا جا رہا ہے، یہ سب ایک سازش ہے تاکہ لاکھوں افراد کو ووٹ ڈالنے سے محروم رکھا جا سکے۔"
ایک شہری نے کہا:"روزی روٹی کمانا ووٹ ڈالنے سے زیادہ اہم ہے، اسی لیے کئی لوگ بہار سے ہجرت کر چکے ہیں۔"
عوامی غصہ، اپوزیشن کا ردِعمل
سابق کانگریس رہنما کرشنا کانت جھاگڈو نے ووٹر رجسٹریشن پالیسی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا:"یہ خصوصی نظرثانی عوامی آزادی پر قدغن لگانے اور آئندہ ریاستی انتخابات پر اثرانداز ہونے کی کوشش ہے۔"
ان کے مطابق:
بی ایل اوز (بلوک لیول افسران) تعاون نہیں کر رہے
ڈومیسائل سرٹیفکیٹس کی قلت عام شکایت ہے
ہر روز کم از کم 50 شکایات پارٹی دفاتر کو موصول ہو رہی ہیں
فٹوکاپی اور کیفے مالکان کی چاندی
عوام کا کہنا ہے کہ:ووٹر رجسٹریشن کے نام پر ہونے والی یہ نظرثانی فوٹوکاپی دکانوں اور کیفے چلانے والوں کے لیے کمائی کا ذریعہ بن چکی ہے.عوام، چاہے وہ کسی بھی ذات یا مذہب سے ہوں، سب ہی بیوروکریسی کے جال میں پھنسے ہوئے ہیں
تجزیہ
بہار جیسے حساس ریاست میں جہاں ذات پات اور معاشی طبقات کا گہرا اثر ہے، ووٹر رجسٹریشن کو مشکل بنانا سیاسی فائدے حاصل کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہےمودی سرکار کے نقاد اسے "انتخابی انجینئرنگ" قرار دے رہے ہیں تاکہ اپوزیشن کے حامی ووٹرز کا اندراج مشکل بنایا جا سکے