بھارت کی مشرقی ریاست بہار میں مون سون طوفان کے دوران آسمانی بجلی گرنے کے متعدد واقعات پیش آئے، جن میں کم از کم 33 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے ہیں۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق یہ واقعات بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب پیش آئے، جب ریاست کے مختلف علاقوں میں شدید بارشوں اور طوفانی موسم کے دوران آسمانی بجلی گری۔
زیادہ تر ہلاکتیں کھیتوں میں کام کرنے والے افراد کی
ریاستی ڈیزاسٹر مینجمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر کسان اور مزدور شامل ہیں، جو بارش کے دوران کھلے آسمان تلے کھیتوں میں کام کر رہے تھے۔
مزید خطرے کی وارننگ
بھارتی محکمہ موسمیات نے بہار کے کئی اضلاع میں مزید شدید بارش اور آسمانی بجلی گرنے کی پیشگوئی کی ہے۔ اس کے پیش نظر حکام کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ مقامی سطح پر عوام کو احتیاطی تدابیر کے بارے میں آگاہ کریں۔
ریاست بہار کے ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے وزیر وجے کمار منڈل نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ خطرے سے دوچار اضلاع کے حکام کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ آسمانی بجلی کے الرٹ کے بعد فوری اقدامات کریں اور لوگوں میں آگاہی پیدا کریں تاکہ جانی نقصان سے بچا جا سکے۔
ریاستی حکومت کا معاوضہ
بہار حکومت نے آسمانی بجلی گرنے سے ہلاک ہونے والے افراد کے لواحقین کے لیے 40 لاکھ روپے (تقریباً 4,600 امریکی ڈالر) فی کس معاوضے کا اعلان کیا ہے۔
گزشتہ سالوں کے اعداد و شمار
ریاستی حکام کے مطابق 2024 میں اب تک آسمانی بجلی گرنے سے 243 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ 2023 میں یہ تعداد 275 تھی۔ یہ واقعات زیادہ تر جون سے ستمبر کے درمیان مون سون سیزن میں پیش آتے ہیں۔
سیلاب اور موسمی شدت ایک مستقل خطرہ
بہار سمیت بھارت کے مشرقی حصے میں ہر سال مون سون کے دوران شدید بارشیں، سیلاب اور آسمانی بجلی معمول بنتی جا رہی ہیں، جس سے نہ صرف درجنوں افراد ہلاک ہوتے ہیں بلکہ لاکھوں افراد بے گھر ہو جاتے ہیں۔